فضائی آلودگی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ، آلودگی والے ذرات ایک ملک سے دوسرے ملک کی سرحد پار جاتے ہیں، وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان

اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی) موسمیاتی تبدیلی بارے وفاقی وزیر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی کی کوئی سرحدیں نہیں ہوتیں جبکہ آلودگی والے ذرات ایک ملک سے دوسرے ملک کی سرحد پار جاتے ہیں۔ اس طرح ایک ملک کی پیداکردہ فضائی آلودگی یا ذرات کے دوسرے ملک پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔انہوں نے یہ بات ایشیاءبحرالکاہل کلین ائیرپارٹنر شپ جوائنٹ فورم بنکاک میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے وزراءکی سطح کے منسٹریل ڈائیلاگ سلوشنز بارے فورم کے سیشن میں شرکت کی اس موقع پر انہوں نے شرکاءپر واضح کیا کہ پاکستان کو سردیوں میں سموگ کا سامنا ہے جس کی لپیٹ میں ملک کا وسیع علاقہ آجاتا ہے جبکہ پاکستان کے نواحی ملک میں زرعی باقیات جلائی جاتی ہیں جبکہ صنعتی اور فضلہ جلائے جانے سے سموگ کے نتیجہ میں معیشت کو نقصان پہنچتا ہے اور انسانی زندگیوں کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔