وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت مانیٹری اینڈ فسکل پالیسیز کوآرڈینیشن بورڈ کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 7 دسمبر (اے پی پی) مانیٹری اینڈ فسکل پالیسیز کوآرڈینیشن بورڈ کا اجلاس جمعہ کو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جس میں مالیاتی پالیسی، بیرونی شعبہ اور زرعی پالیسی کے حوالہ سے حالیہ اقدامات شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2018-19ءکی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 1.4 فیصد رہا۔ بورڈ نے مالیاتی استحکام کے حوالہ سے حکام کے ایڈجسٹمنٹ پلان کو سراہا اور کہا کہ ان اقدامات کے نتائج رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں سامنے آئیں گے جو اقتصادی استحکام میں کردار ادا کریں گے۔ اسی طرح محصولات جمع کرنے اور اخراجات پر قابو پانے کیلئے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مالیاتی خسارہ کے حوالہ سے بورڈ نے سٹیٹ بینک کی فنانسنگ پر انحصار کے زری و اثرات کا جائزہ لیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری 2019ءکے بعد زیادہ تر بیرونی فنانسنگ حاصل ہو گی جس سے فنانسنگ مکس میں بہت بہتری آئے گی، اس کے نتیجہ میں بینکنگ کے شعبہ سے قرضوں پر انحصار بھی کم ہو گا۔ کوآرڈینیشن بورڈ کو بیرونی شعبہ کے حوالہ سے بتایا گیا کہ جنوری 2018ءکے بعد سے کئے گئے اقدامات سے کرنٹ اکاﺅنٹ پر اثرات نظر آ رہے ہیں۔