APP72-12 ISLAMABAD: February 12 - Prime Minister Imran Khan chairing a meeting to review progress on utilization of Auqaf & Evacuee Trust properties for public welfare projects (Education, Health, Panah-Gahs and Public Parks) at PM's Office. APP

اسلام آباد ۔ 12 فروری (اے پی پی) وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت اوقاف اور متروکہ وقف املاک کو مفاد عامہ کے منصوبوں کے لئے استعمال میں لانے کے حوالے سے اجلاس منگل کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ برائے مذہبی امور نور الحق قادری، صوبائی وزیرِ اوقاف پنجاب سید سعید الحسن، سیکرٹری مذہبی امور میاں مشتاق احمد و دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری مذہبی امور کی جانب سے بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو ننکانہ صاحب میں 700مربع اراضی جس میں زرعی اراضی بھی شامل ہے، واگذار کرانے پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے چئیرمین کی تعیناتی ، متروکہ وقف املاک کے حوالے سے ٹاسک فورس اور سکھ گوردوارہ پرابندھک کمیٹی کے قیام پر اب تک کی پیش رفت کے متعلق بھی بتایا گیا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ متروکہ املاک کی 200 ارب سے زائد جائیدادوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے جن میں 15 ہزار 619 یونٹ اور 46 ہزار 885 سب یونٹس ہیں۔ متروکہ املاک کے پلازوں سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدنی 40 کروڑ ہے جو کہ اصل آمدنی سے نہایت کم ہے۔ وزیرِ اعظم نے چیئرمین متروکہ املاک کی تعیناتی اور ٹاسک فورس کی تشکیل کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم کو محکمہ اوقاف پنجاب کی املاک اور محکمے کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ محکمہ اوقاف پنجاب کے زیر اہتمام 435 مساجد، 544 مزار اور71101 ایکڑ جائیداد ہے۔ محکمہ اوقاف کی آمدنی اور اخراجات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مزاروں، خانقاہوں اور متروکہ عمارات کی مرمت اور دیکھ بھال پر آنے والے اخراجات کا اندازہ لگا کر بقیہ آمدنی کو رفاہ عامہ کے منصوبوں کے استعمال کے لئے جامع پروگرام تشکیل دیا جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متروکہ املاک کو سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے صحت، تعلیم ، پناہ گاہوں اور پبلک ویلفیر کے مقاصد کے لئے برو¿ے کار لانے کے لئے بھی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ وزیراعظم کو صوبائی وزیر اوقاف کی جانب سے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ ان اقدامات میں نئی ویب سائٹس کا اجرائ، وضو کے پانی کا دوبارہ استعمال، خانقاہوں میں کیش باکسز (گلہ) کی ماڈرنائزیشن، مزاروں پر جوتے رکھنے کی فیس کو ختم کرنا، فیلڈ سٹاف کو مانیٹرنگ کے لئے جدید آلات کی فراہمی، مذہبی سیاحت کا فروغ وغیرہ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم کو القادر یونیورسٹی برائے صوفی ازم و روحانی تعلیمات کے قیام پر بھی بریفنگ دی گئی۔