وزیر خزانہ اسد عمر پاک ترکی سٹریٹجک فریم ورک کمیٹی کے اجلاس کی صدارت

اسلام آباد ۔ 12 فروری (اے پی پی) وزیر خزانہ اسد عمر نے منگل کو یہاں پاک ترکی سٹریٹجک فریم ورک کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں مجوزہ فریم ورک کی تشکیل اور اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر توانائی، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل، وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ اور وفاقی وزیر برائے نجکاری نے شرکت کی۔ سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی اور مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی تجاویز سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ ایف ٹی اے اور کسٹمز کے طریقہ کار کو سہل بنا کر تجارت میں اضافے کے حوالے سے وزارت تجارت کی تجویز کو خصوصی توجہ دی۔ وزارت ٹیکسٹائل کی جانب سے تجویز دی گئی کہ دونوں ممالک کو ٹیکسٹائل اور گارمنٹس سٹیز قائم کرنے چاہئیں۔ اجلاس کے شرکاءنے یہ بات محسوس کی کہ ترکی کی جانب سے سیاحت کے صنعت کی ترقی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی پیروی سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ترکی کی مدد سے پاکستان میں آٹو انڈسٹری کو مزید تقویت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ملک میں اپنے اپنے بینکوں کی شاخیں قائم کر کے مالیاتی ٹرانزایکشنز کو آسان اور کاروباری روابط کو فروغ دیں۔ انہوں نے پی آئی اے اور ترکش ایئر لائن کے درمیان اشتراک کار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی ایئر لائنوں کے ذریعے شہریوں کی ایک دوسرے ملک میں رسائی کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر خزانہ نے تجارت میں اضافے کے حوالے سے کریڈٹ گارنٹی کے قیام کی تجویز کو سراہا۔ وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز سے کہا گیا ہے کہ وہ اکنامک فریم ورک کے حوالے سے اپنی تجاویز سے آگاہ کریں اور یہ تجاویز موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ سیکرٹری اکنامک افیئر ڈویژن نے کہا کہ اس فریم ورک کے ذریعے توقع کی جا رہی ہے کہ تجارت اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں دونوں ممالک میں مثبت نتائج رونما ہوں گے۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ مختلف وزارتوں اور ڈویژن کی جانب سے بھجوائی جانے والی تجاویز کو ترجیحی بنیادوں پر لیا جائے اور ترکی کے ساتھ ان پر تبادلہ خیال کیا جائے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیراعظم کے دورہ ترکی کے دوران اکنامک فریم ورک کے حوالے سے ترکی کے ساتھ اتفاق کیا گیا۔ اس کا مقصد دوطرفہ اقتصادی تعاون کا فروغ بالخصوص تجارتی شعبے میں تعاون کو بڑھانا ہے۔