APP93-11 PESHAWAR: February 11 - Federal Minister for Finance, Revenue & Economic Affairs, Asad Umar talking to media personnel at Sarhad Chamber of Commerce & Industries. APP

پشاور۔11فروری (اے پی پی)وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے آئی ایم ایف کی پوزیشن میں مثبت تبدیلی آئی ہے ،ہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے قریب آگئے ہیں جو ایک اچھا معاہدہ ہوگا۔ پشاور میںخیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے، ہم خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ، ترکی اور ایران کو گیس منصوبوں میں شامل کرنا بھی ہماری خواہش ہے اور ہم افغانستان میں قیام امن کیلئے ہر ممکن کردار اداکر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی معیشت کیلئے اقدامات پر اتفاق رائے ہوا ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے آنے والے ممکنہ معاہدے کو آخری معاہدہ بنایا جائے اور اس کے بعد ہمیں آئی ایم ایف کی کبھی بھی ضرورت نہ پڑے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی نے باہر سے آکر ٹھیک نہیں کرنا، ہم ہی اسے ٹھیک کریں گے، ہم بہتر فیصلے کریں گے تو معیشت اٹھے گی اور یہ صرف سرمایہ کاری سے ہوگا۔ ا نہوں نے کہا کہ باتیں بہت ہوگئیں اب کام شروع کرنا ہے، ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہے اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا، ایف بی آر کے چھاپوں اور آڈٹ سے ٹیکس نہیں بڑھے گا، کوشش ہے کہ چھوٹے تاجر کے لیے انتہائی آسان سسٹم لائیں جو ایک صفحے کا ہو اور اسے سال میں ایک مرتبہ ٹیکس جمع کرانا پڑے، یہ سسٹم اسلام آباد میں کامیاب ہوگا جس کے بعد ملک بھر میں نافذ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگلے بجٹ میں خواہش ہے کہ تمام لوگوں کے لیے ٹیکس فارم میں آسانی پیدا کی جائے اور جمع کرانے کے طریقہ کار میں بھی آسانی ہو، ابھی اس کام کی ابتدا ہے، آگے مزید چیزیں بہتر کریں گے جو آئندہ بجٹ میں ہونگی۔انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے، سال میں دو ماہ ایسے ہوتے ہیں جس میں خیبرپختونخوا سے گیس نہیں آتی، تاپی گیس منصوبہ پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اورافغانستان کےساتھ تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے، خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ترکی اور ایران کو گیس منصوبوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں،افغانستان میں قیام امن کیلئے ہر ممکن کردار اداکر رہے ہیں۔ طور خم بارڈر 24گھنٹے کھلنا چاہئے ، تجارت بڑھے گی تو برآمدات میں اضافہ ہو گا جس سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہو گی۔انہوں نے کہا کہ کرک،لکی مروت اورکوہاٹ میں گیس دریافت ہوئی ، بلوچستان سے آنے والی بیلٹ میں معدنیات کا ذخیرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کو فروغ دینے کی ضروت ہے۔اس موقع پر انہوں نے صوبائی دارالحکومت کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے قدرتی تجارتی راہداری ہے جس سے اس کی اہمیت دگنا ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مشرقی اور مغربی ممالک سے تعلقات بہتر کر کے تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں تو انتخابات تک کسی بہتری کی امید نہیں لیکن مغربی ممالک جیسے ایران اور افغانستان کے ساتھ ہمیں اپنی بھرپور قوت کے ساتھ تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور اب پی ٹی آئی کا شہر بن گیا ہے، اس کا وزیراعظم پر زیادہ حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ الگ سے ٹیکسٹائل منسٹر کے لیے وزیراعظم سے بات کروں گا۔