واشنگٹن ۔ 15 مارچ (اے پی پی) اقوام متحدہ کے اعانتی مشن برائے افغانستان نے میدان وردک، ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں 8 اور 9 مارچ کے مختلف واقعات میں سرکاری افواج کے ہاتھوں 24 شہریوں کی مبینہ ہلاکت کے معاملے کی رپورٹوں کی چھان بین کے سرکاری اعلان کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔اس ضمن میں ادارے کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ ایک اخباری بیان میں افغان صدر اشرف غنی کے احکامات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں شہری جانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے فوجی کارروائیوں میں بہتر ضابطوں اور طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اعانتی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) نے اس معاملے کا ابتدائی جائزہ لیا ہے اور اس بات کے مبینہ شواہد ملے ہیں کہ تینوں صوبوں میں افواج کے ہاتھوں 24 شہری ہلاک ہوئے، جب کہ دیگر زخمی ہوئے تاہم ادارے نے کہا ہے کہ اس معاملے کی تفصیلی تفتیش جاری رکھی جائے گی تاکہ حقائق واضح ہوں۔بتایا جاتا ہے کہ ہلاک شدگان میں مبینہ طور پر زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ مشن نے کہا ہے کی ابتدائی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زخمیوں کے مقابلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ادارے نے کہا ہے کہ آٹھ مارچ کو میدان وردک اور ننگرہار صوبوں میں ہونے والے واقعات اس وقت ہوئے جب بین الاقوامی فوج کی حمایت سے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کی سپیشل فورسز نے سید آباد اور ہسارک اضلاع میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کیں۔رپورٹ کے مطابق، دونوں واقعات کے دوران بین الاقوامی ملٹری افواج کی جانب سے فضائی کارروائیوں میں شہری آبادی کی ہلاکتیں واقع ہوئیں جبکہ متعدد لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔ ضلع ہسارک کی کارروائی کے دوران 13 خواتین اور بچے ہلاک ہوئے ۔ مزید بتایا گیا ہے ایک روز بعد، حکومت کے وفادار مسلح گروپ جس کی بین الاقوامی افواج مدد کر رہی تھیں، صوبہ پکتیکا کے برمل ضلعے میں طالبان کے خلاف تلاش کی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر شہری ہلاک ہوئے، جن میں بچے شامل تھے۔