APP103-14 ISLAMABAD: March 14 - President Dr. Arif Alvi addressing the leaders in Islamabad Business Summit. APP

اسلام آباد ۔ 14 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت کے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے کاروبار میں آسانی سمیت مختلف پالیسی اقدامات سے پاکستان ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہے اور سماجی و معاشی بہتری حاصل کرنے کے لئے تیار ہے۔ وہ جمعرات کو لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ کے دوسرے روز کے تیسرے ایڈیشن کے وفود کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ پاکستان سے 1000 انٹرپرنیور کے علاوہ 25 ملکوں کے 60 ڈیلی گیٹس نے بزنس سمٹ میں شرکت کی۔ صدر مملکت نے پاکستان کی جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت اجاگر کی جو کہ وسطی ایشیائی ممالک کے لئے زمینی راستہ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروبار دوست ماحول اور پالیسیوں سے مستفید ہونے کے لئے سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کی ترقی اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام سمیت چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جو ماضی میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کا ملک تھا اب پرامن ملک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں حالیہ صورتحال کے تناظر میں پاکستانی قیادت نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور امن کے لئے پرعزم ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل شعبہ سمیت وہ کاروباری افراد جو چند ماہ پہلے حکومت کی پالیسیوں سے متعلق خدشات کا شکار تھے‘ اب حکومت کے کاروبار دوست اقدامات کی تعریف کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کے تحت کاروبار افراد اور صنعت کار آئندہ تین سے چار سال کے دوران اپنے کاروبار کی ترقی سے متعلق پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد معاشی مسائل کے حل کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں جس کا ثبوت غیر ملکی ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے انسداد بدعنوانی کے خلاف اقدامات کے اعتراف کے ساتھ کاروبار میں آسانی کے حوالے سے پاکستان کی بین الاقوامی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سمیت ہمسایہ ممالک میں امن کا خواہاں ہے۔ انہیں یقین ہے کہ آئندہ سالوں میں یہاں امن بحال ہوگا اور سرمایہ کاروں کے لئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور اب بھی ان میں سے 25 لاکھ کی میزبانی کر رہا ہے جس سے پاکستانی قوم کے اعلیٰ اخلاق کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ مغرب کے بعض ممالک مہاجرین کی محدود تعداد میں میزبانی کرتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ ڈیجیٹل دور کے تناظر میں تعلیم بالخصوص جدید فنی اور کمپیوٹر کی تعلیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور مطلوبہ نتائج کے حصول کے لئے یونیورسٹیوں اور صنعت کے درمیان رابطے میں اضافے پر زور دیا۔