اسلام آباد ۔ 30 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت تمباکو نوشی کی روک تھام اور اس کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے، تمباکونوشی کینسر، دل کے امراض اور فالج کا باعث بنتی ہے۔تمباکو نوشی پاکستان میں سالانہ 160,000 افراد کی اموات کا باعث بنتی ہے۔ تمباکونوشی کی روک تھام کے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنا کر لوگوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے ۔ ملک بھر میں انسداد تمباکو نوشی قوانین خا ص طور پر تمباکو مصنوعات کو مشتہر کرنے کی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے وزارت قومی صحت نے چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز اور چیف کمشنر اسلام آباد کو فوری کرنے کی درخواست کی ہے ۔ اپنے ایک خط میں سیکرٹری وزارت قومی صحت نے بتایا ہے کہ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں تمباکو مصنوعات کے تحائف ، پیکٹ خریدنے پر پیسے واپس ، مختلف کیش آفر اور دیگر ذرائع سے مصنوعات کو مشتہر کر کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ 2002 کے انسداد تمباکو نوشی قانون کے مطابق تمباکو کی مصنوعات کو پرنٹ، الیکٹرانک اور بل بورڈ یا دیگر ذرائع سے باہر کے مقامات پر مشتہر نہیں کیا جا سکتا۔ مزید تمباکو کی مصنوعات کو تحائف پیکٹ خریدنے پر کیش کی واپسی اور مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت میں فروخت کرنے پر پابندی ہے۔ ایس آر او 1068 اور 46 کے مطابق صوبائی حکومتیں اور چیف کمشنر اسلام آباد اپنے علاقوں میں تمباکونوشی کی روک تھام کے قوانین پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ دار ہیں۔ قانون کے مطابق خلاف ورزی پر اے ایس آئی یا اس سے اوپر کے اہلکار قانونی کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس لیے صوبائی حکومتوں اور چیف کمشنر اسلام آباد کو درخواست کی گئی ہے کہ قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔