اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کے قیام کے لئے پارلیمانی کمیٹی برائے خزانہ میں بحث و مباحثہ کا آغاز ہو چکا ہے اور کمیٹی کے تمام ارکان نے اس ضمن میں اس عمل کو آگے لے جانے پر اتفاق کیا ہے، منصفانہ نظام کے قیام سے ہماری معیشت کے بیشتر مسائل حل ہوں گے، آنے والے بجٹ میں تمام سٹیک ہولڈرز کی تجاویز اور آراءکو مدنظر رکھ کر پائیدار اقتصادی فیصلے کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام پری بجٹ سیمینار اور سابق وزیر خزانہ و معروف ماہر اقتصادیات حفیظ اے پاشا کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کتاب کی اشاعت پر حفیظ پاشا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس کتاب میں معیشت کے مسائل اور اس کے حل کے لئے بہت محنت سے کام کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی اقتصادی فیصلہ سازی کی بنیاد مضبوط اقتصادی نظریات اور عملی و مشاہدہ پر مبنی تحقیق ہو، تحقیق کا عمل محنت طلب کام ہے لیکن یہ پائیدار ترقی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پر اشرافیہ کا تسلط سیاسی عمل کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ مکمل ختم نہیں ہو گا لیکن اس میں واضح کمی آتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار کے مقررین نے جو تجاویز دی ہیں، وہ ہمارے ایجنڈے میں شامل ہیں، ود ہولڈنگ ٹیکس سے متعلق مسائل حل کئے جا رہے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ اس میں واضح کمی آ جائے، اسی طرح کیپیٹل گین ٹیکس سے متعلق مسائل بھی موجودہ حکومت کے اصلاحات کے عمل کا حصہ ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ وراثت پر ٹیکس کے حامی ہیں، فائلرز کے لئے ود ہولڈنگ ٹیکس ہم نے ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کی بات مختلف فریقوں کی جانب سے سامنے آتی رہتی ہے لیکن عالمی نظام اصلاحات پر توجہ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طریقے سے دولت بیرون ممالک بھجوانے اور آف شور کمپنیاں اور اس نوعیت کی دیگر اقتصادی نوعیت کی بے ضابطگیوں کے بارے میں منصفانہ نظام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سماجی ڈھانچہ پائیدار ترقی کی عدم موجودگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادیات سے متعلق مسائل موجود ہیں، حسابات جاریہ اور ادائیگیوں کے توازن کے مسائل کا کافی حد تک حل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت کی وجہ سے اقتصادی فیصلہ سازی میں مشکلات پیش آتی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ مالیاتی جرائم کی تحقیقات اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف اقدامات کا سلسلہ بند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جب تک منصفانہ اقتصادیات کا نظام نہیں ہو گا اس وقت تک ہمارے مسائل موجود ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں بار ہا میثاق معیشت کی بات کی جاتی رہی، اس وقت بھی ہمارا موقف تھا کہ پارلیمان اور متعلقہ کمیٹیاں اس کا اہم فورم ہیں، موجودہ حکومت نے وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کے قیام کے لئے یہ معاملہ پارلیمان کی کمیٹی برائے خزانہ و اقتصادی امور میں اٹھایا ہے، تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر پیش رفت کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حفیظ پاشا مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے نہ صرف اقتصادی اعدادو شمار جمع کئے، اقتصادی مسائل کا احاطہ کیا بلکہ ان مسائل کے حل کے لئے ٹھوس تجاویز بھی دیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو ہم معیشت کو مستحکم نہیں بلکہ اس وقت ریسکیو کر رہے تھے، 500 ملین ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر یومیہ کم ہو رہے تھے، گیس اور بجلی کے شعبہ میں 600 ارب سے زائد کا خسارہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں اعداد و شمار کو مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح سے ٹیکسوں میں اضافہ ضروری ہے، زرمبادلہ کو برقرار رکھنا اور اس میں اضافہ کرنا ہماری ترجیح ہے، کرنسی کی قدر میں کمی سے اگرچہ ہمیں بعض شعبوں میں منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس سے ریونیو میں اضافہ ہوا، ہم طلب و رسد کے طریقہ کار میں رسد پر توجہ دے رہے ہیں، حکومت اقدامات کی وجہ سے حسابات جاریہ کا خسارہ کم ہو رہا ہے، اسی طرح تجارتی خسارہ میں بھی کمی آ رہی ہے، امید ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات ایک جامع عمل ہے، ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، اصلاحات کے عمل کے تحت ایف بی آر میں بطور انتظامی یونٹ اور ٹیکس قوانین میں اصلاحات یکساں بنیادوں پر آگے بڑھائے جا رہے ہیں، حکومت مینو فیکچرنگ کے شعبے کو بھی بہتر بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایف بی آر میں اصلاحات ایک مشکل مرحلہ تھا، تاہم ہم نے ٹیکنالوجی کا کامیابی سے استعمال کیا ہے، اپریل کے آخر تک نان فائلرز کے خلاف اقدامات کئے جائیں گے، اس مقصد کے لئے ایف بی آر، نادرا، ایف آئی اے اور سیکورٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ٹیکس کے دائرہ کار میں توسیع اور ود ہولڈنگ ٹیکس سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے 10 راﺅنڈ ہوئے ہیں، انڈونیشیاءکے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ آسیان کے دیگر ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کئے جا رہے ہیں، انڈونیشیاءنے پاکستان کو 20 اشیاءپر ڈیوٹی فری کی سہولت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی پالیسی اور ٹیکسٹائل کی پالیسی پر پیش رفت جاری ہے اور اس میں متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جا رہی ہے، پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کا شعبہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ روزگار کے سب سے زیادہ مواقع فراہم کر رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ اس شعبے کی بہتری کے لئے جامع اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای اور معیشت میں انڈر انوائسنگ، سمگلنگ اور دیگر مسائل کے حل کے لئے موثر انداز میں کام ہو رہا ہے، معیشت کو درست کرنا ایک سست رفتار عمل ہے لیکن ہمارے ارادے مضبوط ہیں اور انشاءاللہ معیشت کی بہتری کا عمل ہم آگے بڑھائیں گے۔ قبل ازیں سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کتاب ”پاکستان میں بڑھوتری اور عدم مساوات۔۔ ایجنڈا برائے اصلاحات“ کی تدوین میں ایس ڈی پی ایس، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریسرچ اور کئی ریسرچ سکالرز نے تعاون فراہم کیا ہے، جس کے لئے وہ ان کے شکرگزار ہیں، اس کے علاوہ ڈیٹا کے حصول میں ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے بھی معاونت ملی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والا بجٹ اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایک ٹیسٹ کیس بھی ہے، درآمدات میں کمی، صنعتی شعبے کی ترقی، ٹیکسیشن کے عمل کو آسان بنانا اور ٹیکس کے دائرہ کار میں توسیع موجودہ حکومت کے لئے چیلنجز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ٹیکس و جی ڈی پی کی شرح میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، آئندہ تین سالوں میں اسے 16 فیصد تک لے جانا ہدف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ترقیاتی بجٹ کو کم کر رہی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ طریقہ کار درست نہیں ہے، غیر پیداواری شعبوں میں بچت کی ضرورت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی شاندانہ گلزار نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کی ترقی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم سے بعض مسائل پیدا ہوئے ہیں، کئی شعبے صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں، لہذا مرکزی سطح پر اس حوالے سے پالیسی سازی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو آگے لے جانے کے لئے ایس آر او کے کلچر کا خاتمہ ضروری ہے، اس ضمن میں ہمیں ترقی پذیر ممالک کے کامیاب ماڈلوں کی پیروی کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنا موجودہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ سیمینار سے چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن خاور ممتاز، مسلم لیگ (ن) کی ایم این اے رومینہ خورشید، جرمن غیر سرکاری تنظیم اے پی ایس کے ڈاکٹر رالف پاش اور ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر عابد سہیل نے بھی خطاب کیا۔