FOREIGN MINISTER MAKHDOOM SHAH MEHMOOD QURESHI TALKING TO MEDIA IN MULTAN ON MAY 15, 2019.

ملتان ۔15 مئی (اے پی پی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ جسے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سمجھا جارہاہے وہ اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم ہے اوراس کا مقصد ریونیو حاصل کرنانہیں بلکہ ہم اثاثوں کی دستاویزی حیثیت مستحکم کررہے ہیںاوراس کے نتیجے میں ٹیکس نیٹ وسیع ہوجائے گا۔ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اگر ہمیں آ گے بڑھنا ہے تو پھرہمیں آمدن کے ذرائع بڑھانا ہوں گے۔ ہمیں ایف بی آر میں اصلاحات کرنا ہوںگی اور اس میں چوری چکاری کو ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ مقررہ مدت کے بعد ایک بھرپور ایکشن ہوگا اورپھر جائیدادیں قرق کی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ کوئی پبلک آفس ہولڈر ایمنسٹی سکیم سے مستفید نہیں ہو سکتا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے تک معیشت بہتر نہیں ہو سکتی۔تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق کیاتھا۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ میں تبدیلیوں کی خبریں بے بنیاد ہیں، 23 مئی کو بھارتی الیکشن کے نتائج آئیں گے۔بھارت میں جو بھی جماعت حکومت میں آئی ہم اس سے بات چیت کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ایمنسٹی سکیم متعارف کروا کر کشکول توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماضی میں کشکول توڑنے کے نعرے لگائے گئے مگر اسے توڑا نہیں جا سکا۔شاہ محمودقریشی نے کہاکہ نئے بجٹ میں عام طبقے پر کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ بجلی گیس کی قیمتیں بڑھانا پڑیں تو غریب طبقے پر کم بوجھ ڈالا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں پاک چین تعلقات کو متاثر کرنا چاہتی ہیں اس لئے چینی نوجوانوں سے شادی کے ایشو کو ہوا دی جا رہی ہے۔بہت سی قوتوں کو سی پیک منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا۔