آئین کے تحت فوجداری نظام انصاف میں مزید اصلاحات کے لئے قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمان کا ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ

Caretaker Prime Minister Anwar-ul-Haq Kakar

اسلام آباد۔30جنوری (اے پی پی):نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ آئین کے تحت فوجداری نظام انصاف میں مزید اصلاحات کے لئے قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمان کا ہے۔

نجی ٹی وی چینلز ایک نیوز کے مارننگ شو میں اظہارخیال کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ فوجداری نظام انصاف کے تحت سزائوں کی شرح انتہائی کم ہے جو خامیوں کو ظاہر کرتی ہے اور موثر قانون سازی کے ذریعے ان خامیوں کو دور کرنے کے لئے کوششیں کی جاسکتی ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گرد گروپوں کی موجودگی کے حوالے ایک سوال کے جو اب میں انہوں نے کہاکہ نان سٹیٹ ایکٹرزکو تشدد کاحق نہیں ہے اور ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے دہشت گرد عناصر کاقلع قمع کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 90 ہزار افراد دہشت گردی کا نشانہ بنے۔

یہ سیاسی جماعتوں اور پارلیمینٹیرینز کی ذمہ دار ی ہے کہ وہ فوجداری نظام انصاف کو بہتر بنانے کے لئے اپنی ذمہ داریاں اداکریں۔ وہ اس معاملے کو اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پشتون، بلوچ اور مختلف آبادکارکئی دہائیوں سے رہائش پذیر ہیں۔ کسی سیاسی جماعت کا ایساگروپ نہیں تاہم ایک اقلیتی مسلح گروپ پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ امریکا ، برطانیہ ، یورپی یونین اور تمام دیگر جمہوری ممالک نے ایسے گروپوں کو دہشت گرد قرار دیاہے ۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ میرے نزدیک کالعدم ٹی ٹی پی ، احرار اور بی ایل اے یابی ایل ایف کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔یہ دہشت گرد گروپ تشدد کو دہشت پھیلانے اور معصوم لوگوں کے قتل کے لئے ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ ان کے دہشت گرد حملوں میں 2018 سے اب تک صوبے میں 1038 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ کوسٹل ہائی وے اور تربیت پولیس سٹیشن پر حملوں میں معصوم لوگ مارے گئے اور زندہ جلے ۔دوسری طرف سیاسی احتجاج اور سوچ کو دنیا میڈیااور اہل دانش کی جانب سے سراہا جاتا ہے۔

دنیا نے آئی ایس آئی ایس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیاہے۔ ایک سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ ایک پیچیدہ چیلنج ہے ۔ پاکستان دنیا کے مختلف فورمزپر عالمی برادری کو یہ بتاچکا ہے کہ غزہ کی صورتحال میں تسلسل ناقابل قبول ہے۔ فوری سیزفائر کے ساتھ ساتھ متاثرین کے لئے انسانی امدادی راہداری کھولی جانی ضروری ہے۔ یہ مسلم ممالک کے ساتھ پاکستان کا مشترکہ موقف ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اسلامی ممالک کی تنظیم ، عرب لیگ اور تمام دنیا جون 1967 سےقبل کی سرحدوں پر محیط دو ریاستی حل جس میں القدس شریف کے دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطین ہو، کی بات کرتی ہے،یہی مسلم دنیا کا بھی متفقہ موقف ہے۔ انہوں نے مختلف عناصر کی جانب سے ان پر تنقید پر ناپسندیدگی کااظہار کرتےہوئے کہاکہ پاکستان فلسطین پر اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوگا۔