اراکین سینیٹ کا فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اسرائیلی بربریت کی مذمت

The Senate
The Senate

اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کے ارکان نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے 23 دنوں سے فلسطینی عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے، اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، مسلم امہ کے لئے یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہے، دنیا کو مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر دوہرا معیار ختم کرنا ہو گا۔

پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں معصوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کے خلاف تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر اسحق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ اور فلسطین کی صورتحال پوری دنیا کے لئے لمیہ فکریہ ہے، اسرائیل شہری آبادیوں، ہسپتالوں، مساجد پر اندھا دھند بمباری کر رہا ہے، اسرائیلی بربریت کا خاتمہ ہونا چاہیے، غزہ میں اس وقت ادویات، پینے کے پانی، خوراک اور ایندھن کی کمی ہے، بچوں اور خواتین پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، ہم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں، اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے فلسطینی شہریوں کی شہادت پر دل رنجیدہ ہے، مسلم امہ کے لئے یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہیں، پچھلے 23 سے فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، فلسطین کے مسئلہ پر پاکستان کو موثر آواز اٹھانی چاہیے، اقوام متحدہ فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اقدامات کرے تو صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے، وزیر خارجہ حکومت کی پالیسی سے ایوان کو آگاہ کریں۔

سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ آج کا اجلاس فلسطین کے مسئلہ پر قوم کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے، اسرائیل نے ظالم، سفاک اور دہشت گرد ملک ہونے کا پھر ثبوت دیا ہے، اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، انسانی اقدار اور قوانین کو وہ پامال کر رہا ہے، اس سفاکیت، جارحیت اور نسل کشی کی نہ صرف مذمت بلکہ مزاحمت بھی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں مفادات اور بڑی طاقتوں کی اجارہ داری ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیانات تو سامنے آئے ہیں لیکن عملی طور پر فلسطینیوں کا قتل عام رکوانے کے لئے کچھ نہیں کر پا رہا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو اپنا دوہرا معیار ختم کرنا چاہیے، فلسطین اور کشمیر پر بیانیہ کچھ اور یوکرائن کی جنگ پر کچھ اور کیوں ہوتا ہے، پاکستان کا سرزمین فلسطین کے ساتھ اٹوٹ رشتہ ہے، قائداعظم نے بھی فلسطینی سرزمین پر صہیونی ریاست کے قیام کی مخالفت کی، ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صاف شفاف انتخابات کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی آزادی ہونی چاہیے۔ سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پوری دنیا میں مسئلہ فلسطین پر جو امت مسلمہ کے جذبات ہیں ہمارے بھی وہی ہیں، دنیا کو مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر دوہرا معیار ختم کرنا ہو گا۔

سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتا ہے، وہ اپنے غیر قانونی قبضے کو قانونی جواز نہیں بنا سکتا، اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 100 سے زائد قراردادیں منظور کر رکھی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ سینیٹر نسیمہ احسان نے کہا کہ فلسطین میں ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ فلسطینیوں پر اسرائیل کی بربریت قابل مذمت ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اسلامی ممالک کو مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا چاہیے، غزہ میں فتح حق اور آزادی کی ہو گی، اسرائیل ایک قابض صہیونی ریاست ہے جس کا کوئی مستقبل نہیں ہے، فلسطینیوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا خاتمہ ہو گا۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ اگر اسرائیل کو فلسطین میں مظالم سے نہیں روکا گیا تو یہ آگ پوری دنیا بالخصوص مسلمان ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، حماس دہشت گرد نہیں اسرائیل دہشت گرد ہے۔

سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ اسلحہ اور جنگ سے مسائل حل نہیں ہوں گے، دو ریاستی فارمولا مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل ہے۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ ایوان میں وزیر خارجہ کو مسئلہ فلسطین پر حکومت کا پالیسی بیان پیش کرنا چاہیے۔