اعلیٰ تعلیم تنقیدی سوچ اور مہارتوں کے حصول کا بہترین راستہ ہے جو تمام افراد بالخصوص خواتین کو کامیابی کے لئے ضروری وسائل فراہم کرتا ہے،معاون خصوصی مشعال حسین ملک

راولپنڈی۔29نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے انسانی حقوق مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم صرف علم کا حصول نہیں بلکہ تنقیدی سوچ اور مہارتوں کے حصول کا ایک بہترین راستہ ہے جوکہ تمام افراد اور خاص طور پر خواتین کو آگے بڑھتی ہوئی دنیا میں کامیابی کے لئے ضروری وسائل فراہم کرتا ہے۔ ان خیالات اظہار انہوں نے بدھ کو فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشعال حسین ملک نےخواتین کو ماضی میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں درپیش رکاوٹوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس سلسلے میں کچھ سنگ میل حاصل کر لئے گئے ہیں

لیکن صنفی تعصب، ثقافتی اصول اور معاشی تفاوت جیسے چیلنجز اب بھی خواتین کی تعلیمی رسائی میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 خواتین کے املاک کے حقوق ایکٹ 2020 کا نفاذ؛ انسداد عصمت دری (تفتیش اور مقدمہ) ایکٹ 2021 اور کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ (ترمیمی) ایکٹ 2022 خواتین کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لئے حکومت کی طرف سے نافذ کردہ اہم قانون سازی ہے۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم اور معاشی ترقی کے درمیان تعلق پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر خرچ ملک کی معیشت میں سرمایہ کاری ہے جس سے مزید متنوع اور اختراعی افرادی قوت پیدا ہوتی اور غربت کی شرح میں کمی آتی ہے۔ مشعال ملک نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تعلیم ان تعلیمی کامیابیوں سے مسئلہ حل کرنے اور مواصلات کی مہارتوں تک جاتی ہے جو موثر قیادت کے لئے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ خواتین نہ صرف معاشی شراکت دار ہیں بلکہ سماجی تبدیلی کو چلانے کے لئے بھی کام کرتی ہیں۔ صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے اپنی ذاتی وابستگی کا اشتراک کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ انہوں نے انسانی حقوق اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے 100 دن کا ایکشن پلان شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قومی صنفی پالیسی پر کام شروع کیا ہے اور وفاقی حکومت کی طرف سے نافذ کردہ لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ 2020 نے فوجداری مقدمات میں خواتین سمیت کمزور گروہوں کو انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے کے لئے قانونی اور مالی مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کو کلاس روم سے آگے رہنمائی اور معاون نیٹ ورکس تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

مشعال ملک نے کہا کہ صوبائی کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن (پی سی ایس ڈبلیو) ہیلپ لائنز 1043، کے پی کے بولو ہیلپ لائن، سندھ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ہیلپ لائن 1094 اور ٹیلی سائیکو سوشل سپورٹ سروسز کا قیام صنفی بنیاد پر تشدد (جی بی وی)سے نمٹنے کے لئے اہم ہے۔ مشعال حسین ملک نے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر اور فلسطین کی پریشان کن صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری اور فلسطینی خواتین خطے میں طویل زمینی تنازعات کی وجہ سے ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت سی خواتین نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے، ان چیلنجوں کے باوجود کشمیری اور فلسطینی خواتین نے اپنی برادریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر اور ثابت قدمی سے بھارتی اور اسرائیلی افواج کے ظلم و بربریت کا سامنا کرتے ہوئے لچک کا مظاہرہ کیا۔ مشعال حسین ملک نے ایک ایسے مستقبل پر زور دیا جہاں ہر عورت کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی کا موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کی تبدیلی کی طاقت خواتین کو بااختیار بنائے گی جو دنیا کو بدل دے گی۔