افغانستان میں بین الاقوامی امداد کو حکومت پر دبائو بڑھانے سےمنسلک کرنے کی پرانی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی، منیر اکرم

نیویارک۔25جنوری (اے پی پی): پاکستان نے افغانستان میں سیاسی استحکام اور انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے لیے بین الاقوامی امداد کو طالبان کی زیر قیادت افغان حکومت پر دبائو بڑھانے سے منسلک کرنے کی پرانی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے بی بی سی ریڈیو اور بی بی ٹی وی لائیو کو انٹرویو میں کہا کہ افغان حکومت میں سیاسی استحکام اور انسانی حقوق کے حوالے سے بات چیت اور انہیں قائل کرنے کی ایک نئی حکمت عملی تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مشکلات سے دوچار افغان شہریوں لوگوں کے لیے عالمی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے بین الاقوامی امداد سے فائدہ اٹھانے کی جو حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، وہ کامیاب نہیں ہو سکی ہے لہذا ہمیں افغان عوام کے لیے بین الاقوامی حمایت جاری رکھنے کے لیے طالبان کی زیر قیادت حکومت سے رابطہ کرنے اور انہیں قائل کرنے کی نئی حکمت عملی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کےبعض فیصلے بین الاقوامی برادری کے لیے ناقابل قبول ہیں ، پاکستان نے پڑوسی ملک ہونے کی حیثیت سے افغانستان کے ساتھ رہنا ہے اور افغانستان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا اثر پاکستان پر پڑتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ ہم طالبان کی زیر قیادت افغان حکومت کے ساتھ روابط جاری نہ رکھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ، طالبان ایک حقیقت ہیں، پورے ملک پر ان کا کنٹرول ہے اور اس لیے ہمیں ان سے رابطے میں رہنا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کے لیے بین الاقوامی امداد یا انسانی امداد کو بند کر دیا گیا تو ہمیں اس کے نتیجے میں قحط اور بھوک، پناہ گزینوں کا اخراج، بڑے عدم استحکام اور دہشت گردی میں اضافے کی صورت میں سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا لہذا ہمیں افغانستان میں اقتصادی بحالی کے لیے رابطے ، انسانی امداد اور تعاون کو جاری رکھنا چاہیے کیونکہ یہی افغان عوام کے لیے غربت اور ان کو درپیش سنگین صورتحال سے نکلنے کا راستہ ہے کیونکہ افغان معیشت تباہ ہو چکی ہے جو 75 فیصد غیر ملکی امداد پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو بین الاقوامی امداد کی فراہمی جاری رکھنی چاہیے جو بنیادی طور پر ہمارا نقطہ نظر ہے۔ طالبان کی جانب سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے بارے ایک سوال کا جواب میں انہوں نے سوال کیا کہ رابطے کے علاوہ، بین الاقوامی برادری کے پاس کیا چوائس ہے کیونکہ دوسرا متبادل افغانستان میں اس سے بھی بڑی تباہی ہے لہذا افغان حکومت کے ساتھ رابطہ کرنے اور انہیں قائل کرنے کی کوشش جاری رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، ظاہر ہے ہم انہیں کیسے اور کب قائل کر سکتے ہیں یہ غیر یقینی ہے لیکن اگر ہم طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاتے ہیں تو وہ اس کا مثبت جواب دیں گے۔

خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان خواتین کو تعلیم تک رسائی دینے کے لیے طالبان کو قائل کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے کیونکہ یقیناً بین الاقوامی امدادی پروگرام میں ان کا کردار اہم ہے لیکن ہمیں مشکل حالات میں کام کرنا ہے۔