افغان حکام کی عدم موجودگی کے باوجود افغانستان کے مسئلے پر اتفاق رائے ہو گیا، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

Antonio Gutierrez
Antonio Gutierrez

اقوام متحدہ ۔20فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا کہ دوحہ میں 2 روزہ اجلاس کے بعد بین الاقوامی نمائندوں کا افغانستان سے متعلق کچھ اہم معاملات پر اتفاق رائےہو گیا ہے لیکن رکاوٹیں باقی ہیں۔ سی جی ٹی این کے مطابق انہوں نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایک خودمختار ریاست کے وعدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نبھانے کے قابل ہو۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کو بین الاقوامی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور بہت سے پہلوؤں سے عالمی اداروں اور عالمی معیشت میں ضم نہیں کیا جاتا، دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر افغانستان میں انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لئے بگڑتے ہوئے حالات کا تاثر عام ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور افغان حکام کے خدشات کو دور کرنے کے لیے مشترکہ روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔انتونیو گوتریش کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چین، روس اور امریکا سمیت 20 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس میں افغا ن حکام نے شرکت نہیں کی۔اقوام متحدہ کے سربراہ کے مطابق افغان حکام کی جانب سے اجلاس میں شرکت کے لیے جو شرائط رکھی گئی تھیں وہ قابل قبول نہیں تھیں۔