اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارتی مندوبین کے درمیان تکرار

اقوام متحدہ۔22جون (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں تعینات 9لاکھ بھارتی فوجیوں نے علاقے کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور بھارتی فوج کی طرف سےکشمیری عوام کو ہر روز ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل کے ہیومینیٹیریئن افیئرز سیگمنٹ میں پاکستانی مندوب کے اس بیان کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستانی اور بھارتی مندوبین کے درمیان لفظی تکرار شروع ہو گئی ، جس میں بھارتی نمائندہ نےپاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندہ صائمہ سلیم نے جواب دینے کا اپنا حق استعمال کرتے ہوئے بھارت کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی کبھی تھا کیونکہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے اور بھارت اقوام متحدہ کے اس فیصلے کو تسلیم بھی کر چکا ہے کہ متنازع علاقے کے مستقبل کا فیصلہ شفاف اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019کے اقدام کے بعد سے بھارت کی جموں و کشمیر کے مسلم اکثریت والے مقبوضہ علاقے کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے اور جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قانون کی سنگین اور کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جاری کشیدگی کے باعث اس علاقے میں انسانی بحران کی صورتحال سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک دہشت گردی کی بات ہے، بھارت کا یہ بیان اپنی ریاستی دہشت گردی کو چھپانے کی کوشش ہے۔