اقوام متحدہ کے رابطہ کا رکا لبنان میں انسانی بحران کے خدشہ کا اظہار

فلسطین اور اسرائیل دو آزاد ریاستوں کے قیام سے ہی خطے میں استحکام ہو گا، اقوام متحدہ

جنیوا۔2جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے رابطہ کا ر نے لبنان میں انسانی بحران کے خدشہ کا اظہار کیا ہے۔لبنان کے لیے اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ اور انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر نجات رشدی نے یہاں ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ یوکرائنی بحران کے اثرات سے لبنان میں سماجی و اقتصادی حالات مزید خراب ہورہے ہیں اوراشیاء خوردونوش کی قمتوں میں ہو شربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ 2.2ملین افراد کو سال کے آخر تک خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی کو محفوظ بنانے کے لیے فوری مدد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ لبنان کی افرادی قوت کا تقریبا ًایک تہائی افراد بے روزگار ہے، بے روزگاری کی شرح 2018-2019 میں 11.4 فیصد سے بڑھ کر 2022 میں 29.6 فیصد ہو گئی۔

اقوام متحدہ کے رابطہ کا رنے کہا کہ ملک میں اس وقت ماہانہ اجرت 25 امریکی ڈالر سے کم ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں آمدنی اور قوت خرید میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں 51 فیصد چھوٹے پیمانے کے کاروباری اداروں نے عارضی طور پر کام بند کر دیا ہے،

ان کے 84 فیصد کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے اور 94 فیصد نے اپنی اجرت میں بڑی حد تک کمی کردی ہے۔ نجات رشدی نے بتایا کہ لبنان میں 1.95 ملین افراد انسانی بنیادوں پر صحت عامہ کی خدمات کررہے ہیں جو اگست 2021 سے 43 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف ہسپتالوں میںطبی آلات اور بجلی کی شارٹ فال کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان میں 40 فیصد سے زیادہ ڈاکٹروں اور 30 فیصد سے زیادہ نرسوں نے اقتصادی بحران کی وجہ سے ملک چھوڑ چکے ہیں۔عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے مطابق لبنان میں تقریبا 4 ملین افراد کو محفوظ پانی تک رسائی کا فوری خطرہ ہے۔