امارات کے سرحد پار ادائیگی کے نظام ’’بُونا‘‘کا اپنا دائرہ کار پاکستان ،چین اور بھارت تک بڑھانے کا ارادہ

United Arab Emirates
United Arab Emirates

بیجنگ ۔26فروری (اے پی پی):متحدہ عرب امارات کے سرحد پار ادائیگی کے نظام ’’بُونا‘‘(بی یو این اے) سال 2024-25 کے دوران اپنا دائرہ کار پاکستان ،چین،بھارت اور متعدد افریقی اور یورپی ممالک تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس وقت یہ سسٹم دنیا کے 14ممالک کے 108بینکوں سے کامیابی سے منسلک ہے جبکہ مزید 105سے زیادہ بینک اس پیلٹ فارم سے جڑنے کے لئے تیاری میں ہیں۔چائنا اکنامک نیٹ کی رپورٹ کے مطابق سرحد پار ادائیگی کے نظام ’’بُونا‘‘ کے ذریعے اس وقت عرب خطے کی چار بڑی کرنسیوں یو اے ای درہم،سودی ریال،مصری پائونڈ اور اردنی دینار سمیت امریکی ڈالر اور یورو کی ریئل ٹائم رقم کی منتقلی کی سہولت دی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چائنا سنٹر فار انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینجز (سی سی آئی ای ای )کے نائب سربراہ برائے سٹریٹجک ریسرچ ڈپارٹمنٹ رین ہیپنگ نے کہا ہے کہ اس ادائیگی کے نظام میں روپے کی شمولیت پاکستانی بینکوں میں سرحد پار کرنسی کے لین دین کی کارکردگی کو بہتر بنائے گی اور پاکستان کے بین الاقوامی اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مزید گہرا کرنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیسٹی میٹک مالیاتی خطرات کو روکنے اور مالیاتی مارکیٹ کے استحکام کو بہتر بنانے میں مالیاتی بنیادی ڈھانچے کی خاص اہمیت خود واضح ہے، اس طرح بُونا پاکستان کی مالیاتی مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور سرحد پار کرنسی کے کاروبار کی مقامی ترقی کو فروغ دینے میں مدد کر سکتا ہے۔

غیر ملکی کمپنیاں پاکستان کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کے لیے بونا کا بھرپور استعمال کریں تاکہ پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ گزشتہ سال، پاکستان نے پہلی بار روس سے خام تیل کی ادائیگی کے لیے چینی کرنسی کا استعمال کیا جسے پاکستان کی اقتصادی ترقی اور عالمی اقتصادی طرز پر گہرا اثر قرار دیا جا سکتا ہے۔ آر ایم بی سیٹلمنٹ نے نہ صرف لین دین کے عمل کو آسان بنایا ہے بلکہ لین دین کے اخراجات کو بھی کم کیا ہے۔

رین نے مزید کہا کہ فی الحال، بین الاقوامی تجارت اور مالیات میں امریکی ڈالر کے غلبہ پر تیزی سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور بہت سے ممالک نے ایک کرنسی پر انحصار کم کرنے کے لیے متنوع کرنسی کی تصفیہ اور ریزرو کے طریقے تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کا فیصلہ کچھ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس بار بونا میں شامل ہونے کا مطلب ہے مالیاتی میدان میں پاکستان کی ایک اور کامیاب کاوش اور ڈالر ائزیشن کی کمی کی طرف ناگزیر قدم ہے۔