امریکی کمیشن کی فرانس کے سرکاری سکولوں میں عبایا پہننے پر پابندی کے فیصلےکی مذمت

مذمت

واشنگٹن ۔25ستمبر (اے پی پی):امریکا کےبین الاقوامی مذہبی آزادی کے کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) نے فرانس کے سرکاری سکولوں میں عبایا پہننے پر پابندی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس اپنی مسلم آبادی کو نشانہ بنانے اور ڈرانے دھمکانے کے لیے سیکولرازم کا استعمال کر رہا ہے۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق کمیشن کے چیئرمین ابراہم کوپر نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت فرانسیسی اقدار کو فروغ دینے کی گمراہ کن کوشش میں مذہبی آزادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔فرانس مذہبی گروہوں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور دھمکانے کے لیے سیکولرازم کی مخصوص تشریح جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ کسی بھی حکومت کو اپنی آبادی پر ایک مخصوص مذہب مسلط کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، تاہم سیکولرازم کو فروغ دینے کے لیے مذہبی عقائد کے پُرامن عمل کو محدود کرنا بھی قابل مذمت ہے۔

واضح رہے کہ 2004 میں منظور کردہ ایک فرانسیسی قانون کے مطابق سکولوں میں کسی بھی قسم کی مذہبی علامت یا لباس ،عیسائی صلیب یا حجاب پہننا ممنوع ہے۔امریکی کمیشن نے کہا کہ 2004 کے اس قانون نے فرانس میں تمام مذہبی گروہوں کو متاثر کیا ہے تاہم مسلم لڑکیوں کو اس کی منظوری کے بعد سے خاص طور پرجانچ پڑتال اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

فرانس کے اس ضمن میں اقدامات شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (یو ڈی ایچ آر) دونوں کے آرٹیکل 18 کے بالکل برعکس ہیں۔

یہ ہر شخص کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے جس میں علامتوں یا لباس کے ذریعے اپنے مذہبی عقائد کو ظاہر کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔