پاکستان ہر محاذ پر فلسطین کے لیے آواز بلند کر رہا ہے ، غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے، موثر انتظامی اقدامات سےاشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کی میو ہسپتال کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو

پاکستان تیز رفتار اقتصادی و صنعتی ترقی کے لئے سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے پر توجہ دے رہا ہے، نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کافینکس ٹی وی کو انٹرویو

لاہور۔31اکتوبر (اے پی پی):نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان ہر محاذ پر فلسطین کے لیے آواز بلند کر رہا ہے ، پاکستان اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کرتا ہے، غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کو امداد پہنچائی جا سکے، انتخابات کی تاریخ الیکشن کمیشن دے گا جبکہ نگراں حکومت لیول پلیئنگ فیلڈ یقینی بنائے گی،آئی ایم ایف کا وفد 2 نومبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا ، ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، سمگلنگ معاشی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ، نگراں حکومت کے موثر انتظامی اقدامات سےاشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔وہ منگل کو میو ہسپتال لاہور کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی سمیت دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

فلسطین پر اسرائیلی مظالم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر او آئی سی کے حالیہ ہنگامی اجلاس کی مشترکہ میزبانی کی، غزہ پر او آئی سی اجلاس میں پاکستانی وزیر خارجہ نے بھرپور نمائندگی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے مختلف عالمی رہنمائوں، چینی قیادت اور عالمی میڈیا کے ساتھ اپنے حالیہ رابطوں کے دوران اس مسئلے کو اجاگر کیا اور پاکستان کی حکومت اور قوم کا موقف اور جذبات کو دوٹوک انداز میں ان تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کرتا ہے، ہم نے ہر محاذ پر فلسطین کے لیے آواز بلند کی ہے ، چین کے حالیہ دورے میں بین الاقوامی رہنمائوں سے بھی اس تنازعہ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

نگراں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ طویل عرصہ سے حل طلب عالمی تنازعہ ہے ، پاکستان اس حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو امداد پہنچائی جا سکے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ دنیا کا کوئی بھی ملک غیر ملکیوں کو غیرقانونی طور پر اپنے ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دیتا ، یہ تاثر غلط ہے کہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جارہے ، غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تمام تارکین وطن کو واپس ان کے ممالک میں بھیجا جائے گا، کسی بھی دوسرے ملک کا شہری قانونی طور پرویزہ لے کر پاکستان آسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہاکہ الیکشن کمیشن ایک دستوری ادارہ ہے، آئندہ انتخابات کے انعقاد کی تاریخ الیکشن کمیشن دے گا، انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو ہر معاونت فراہم کریں گے اور سب کے لئے لیول پلیئنگ فیلڈ کو یقینی بنائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا ایک مخصوص طریقہ کار ہے جس پر مکمل عملدرآمد کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، ہمیں اپنے عمل کے ذریعے دوسروں کے لیے مثال بننا ہے۔پ

اکستان تحریک انصاف کی آئندہ انتخابات میں شرکت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ابھی تک الیکشن کمیشن نے کسی بھی سیاسی پارٹی پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ انتخابی نشانات مختص کرنا بھی الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نگران حکومت کی پالیسی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی سہولیات فراہم کی جائیں، ہر سیاسی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں اور اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے، نگراں حکومت کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام نہیں کرے گی۔

انوار الحق کاکڑ نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ خوش اسلوبی سے بات چیت جاری ہے، آئی ایم ایف کا وفد 2نومبر کو پاکستان کا دورہ کر رہا ہے، اس حوالے سے پاکستان کی تمام تیاریاں مکمل ہیں ، امید ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ دوسری قسط کے حوالے سے امور کامیابی سے طے پا جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، ایس آئی ایف سی کو پارلیمنٹ کے ذریعے مکمل تحفظ حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سمگلنگ ملکی معاشی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے ، نگراں حکومت کے بروقت اور موثر انتظامی اقدامات سے سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمہ کویقینی بنایا جا رہا ہے، سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے حکومت کے اقدامات کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کی قدر میں کمی کے بعد آٹا ، چینی ، گھی اور دالوں سمیت دیگر اشیائے خوردونوش اور اجناس کے نرخوں میں کمی آئی ہے، امید ہے آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں ،شاہی قلعہ کے ثقافتی ورثہ کی بحالی خوش آئند ہے، سیاحت کے فروغ کے حوالے سے جہاں ضرورت ہوگی وفاقی حکومت پنجا ب کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی، ثقافت کے فروغ کے لیے پنجاب حکومت کی کوششیں قابل تعریف ہیں ، توقع ہے کہ دیگر صوبے بھی سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائیں گے، حالیہ دورہ لاہور سے پنجاب حکومت کے بہت سے ترقیاتی منصوبوں بارے آگاہی حاصل ہوئی ہے۔

نگراں وزیراعظم نے میو ہسپتال انتظامیہ کی موجودہ ڈھانچے کو بہتر بنانے اور اس کی تشکیل نو پر تعریف کی۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو اس طرح کے محدود وقت کے منصوبوں کے حوالے سے وفاقی حکومت کی معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی۔