ایس ایم ایز معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں مضبوط کرنا اشد ضروری ہے، مہر کاشف یونس

Kashif Yunus
Kashif Yunus

لاہور۔28جنوری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے اقتصادی سرگرمیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور جدت طرازی و مجموعی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے انہیں مضبوط کرنا اشد ضروری ہے۔

اتوار کو یہاں گولڈ رِنگ اکنامک فورمز کے زیراہتمام قومی معیشت پر ایس ایم ایز کے اثرات کے موضوع پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر کو بینک فنانسنگ کی ضرورت ہے جو شاذ و نادر ہی قرضوں پر ڈیفالٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز بین الاقوامی تجارت میں معیشتوں کو باقی دنیا کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور عالمی ویلیو چینز میں ان کی شرکت تجارتی تعلقات کو بہتر اور مضبوط بناتی ہے۔

ایس ایم ایز روزگار کے مواقع پیدا کرکے بیروزگاری کو کم اور سماجی استحکام کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ ادارے نئی ٹیکنالوجیز کو تیزی سے اپنانے اور سرعت کے ساتھ مارکیٹ ڈیمانڈ پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے عالمی منڈی میں مجموعی مسابقت میں معاون ہوتے ہیں۔ مہر کاشف یونس نے کہا کہ پاکستان میں ایس ایم ایز کے پاس بینک گارنٹی کی کمی ہے اور انہیں ان کی بیلنس شیٹ کی بنیاد پر قرضے فراہم کرنا ایک پرخطر کاروبار ہے۔

انہوں نے کہا کہ تکنیکی طور پر مضبوط ایس ایم ایز کو فروغ دے کر معیاری اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار کو یقینی اور غیر دستاویزی غیر معیاری مینوفیکچررز کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان، تمام صوبائی سمال انڈسٹریز کارپوریشنز اور تمام کمرشل بینکوں کو چاہیے کہ وہ صنعتی ترقی کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ایس ایم ایز کو نرم شرائط و ضوابط پر قرضے فراہم کریں کیونکہ یورپ اور چین سمیت دنیا بھر میں ایس ایم ایز صنعتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس لیے پاکستان میں بھی ایس ایم ایز کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔