ایوان بالا کی قواعد و ضوابط و استحقاق کمیٹی کا اجلاس،صدراین بی پی کے نامناسب رویے کے خلاف پیش کردہ تحریک استحقاق کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

ایوان بالا کی قواعد و ضوابط و استحقاق کمیٹی کا اجلاس،صدراین بی پی کے نامناسب رویے کے خلاف پیش کردہ تحریک استحقاق کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):ایوان بالا کی قواعد و ضوابط اور استحقاق کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طاہر بزنجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق اجلاس میں سینیٹرز نصیب اللہ خان بازئی اور سردار محمد شفیق ترین کی جانب سے نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر کے نامناسب رویے کے خلاف اور این بی پی ہیڈ آفس کراچی میں سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر پیش کردہ تحریک استحقاق کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

سینیٹر نصیب اللہ بازئی اور سردار محمد شفیق ترین نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نیشنل بینک ملازمین کے مسائل کے حل کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے خصوصی کمیٹی تشکیل دی ۔خصوصی کمیٹی نے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے سینیٹر نصیب اللہ بازئی کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دی تاکہ معاملات کا تفصیلی جائزہ اور حل کے لئے تجا ویز حاصل کی جا سکیں ۔ذیلی کمیٹی کا اجلاس کوئٹہ میں نیشنل بینک کے ہیڈ آفس میں منعقد ہوا اور مزید جائزہ لینے کےلئے 12اکتوبر 2023کو کراچی نیشنل بینک ہیڈ آفس میں کمیٹی اجلاس منعقد ہوا۔

صدر نیشنل بینک نے کراچی ہیڈ آفس میں موجود ہوتے ہوئے بھی کمیٹی اجلاس میں آنا گوارا نہ کیا ۔ذیلی کمیٹی نے ان کے رویے کے خلاف یہ استحقاق کا معاملا پیش کیا ۔پارلیمنٹ ایک سپریم ادارہ ہے اور اس کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا سب کا فرض ہے ۔کمیٹی ارکان کا موقف تھا کہ ایک تنظیم کے صدر کا یہ رویہ بالکل غیر مہذب تھا۔ سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے کہا کہ اگر ملک کے اعلیٰ ترین فورم پر معاملات کو نمٹانے کے لئے اتنی سنجیدگی ہے تو عوامی شکایات کو کیسے دور کرتے ہوں گے،

ایک سیکورٹی گارڈ کے ذریعے پارلیمنٹ کی کمیٹی کا استقبال کرانا اور کمیٹی کو انتظار کرانا صدر نیشنل بینک کو زیب نہیں دیتا ۔سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کمیٹیاں آئینی کمیٹیاں ہوتی ہیں جو سب سے بڑا فورم ہے اور ہائوس نے انہیں اختیارات بھی دے رکھے ہیں ۔سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کمیٹی کے ساتھ جو برتائو کیا گیا وہ قابل قبول نہیں ہے ،صدر نیشنل بینک نے ابھی تک تحریری طور پر معذرت نامہ جمع نہیں کرایا ۔

نیشنل بینک آف پاکستان نے اپنے جواب میں کہا کہ سی بی اے کے سابق ملازمین کمیٹی روم میں موجود تھے ،قانون کے مطابق ان کی موجودگی میں معاملات کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا تھا ،میں ایک دفعہ پھر معزز سینیٹرز سے معذرت کرتا ہوں ۔ چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس روش کو ختم ہونا چاہیے کہ پہلے نامناسب روایہ اختیار کیا جائے اور پھر بعد میں معذرت کرکے معاملے کو ختم کرایا جائے جب تک کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا بہتری ممکن نہیں ہے ۔

نگران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر نیشنل بینک کو اخلاقیات کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور کمیٹی کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا وہ آج اپنا تحریری معذرت نامہ کمیٹی کو پیش کردیں گے ۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں نگران وفا قی خزانہ اور سیکرٹری خزانہ کی موجودگی میں معاملے کا جائزہ لیا جائے گا ۔

اجلاس میں، سینیٹرز پروفیسر ساجد میر ،عرفان الحق صدیقی ،سید مظفر حسین شاہ،خالدہ سکندر میندرو ،سید علی ظفر، نصیب اللہ خان بازئی، سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ نگران وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی ،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خزانہ ،ایڈیشنل سیکرٹری وزارت پارلیمانی امور، صدر این بی پی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔