بار اور بینچ دونوں ہی انصاف اور جمہوریت کے حصول کے لیے کلیدی اسٹیک ہولڈرز کا کردار ادا کرتے ہیں،نگراں وزیر اعلیٰ سندھ

Maqbool Baqir
Maqbool Baqir

کراچی۔ 09 دسمبر (اے پی پی):نگراں وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا ہے کہ بار اور بینچ دونوں ہی انصاف اور جمہوریت کے حصول کے لیے کلیدی اسٹیک ہولڈرز کا کردار ادا کرتے ہیں اور دونوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان نہ صرف انہیں بلکہ پورے انصاف کے نظام کو متاثر کرتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے تعلقات کو بہتر کرکے تمام مسائل کامل کر سامنا کرنا چاہیے۔

جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے کراچی بار ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیہ کے موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس عقیل احمد عباسی،صدرکراچی بار ایسوسی ایشن عامرسلیم ، نائب صدرممتاز علی مہدی ، جنرل سیکریٹری وقار عالم عباسی، جوائنٹ سیکریٹری صبیح محمود اور دیگر نے شرکت کی۔

تقریب کے آغاز میں نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے جسٹس عقیل احمد عباسی کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ ماضی کو یاد کرتے ہوئے جسٹس باقر نے کہا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے ساتھ ان کی وابستگی چار دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 سال قبل میں باحیثیت ایک نوجوان وکیل کراچی بار ایسوسی ایشن کا ممبر بنا اور یہ رشتہ میرے جج بننے کے بعد بھی قائم رہا۔ جسٹس باقر نے 2007 کی وکلاء تحریک کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ 2007 کی ایمرجنسی میں وکلاء اور کے بی اے نے جمہوریت کی بحالی کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک کو اندرونی و بیرونی طور پر خطرات کا سامنا تھا۔

جمہوریت اور عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد کا ثمر 2009 میں ججز کی بحالی کی صورت میں ملا۔نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس(ر) مقبول باقر نے کہا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے وفد نے وزیراعلیٰ ہائوس میں ان سے ملاقات کی تھی۔ وفد نے بار کو پیش آنے والے متعدد مسائل کا ذکر کیا اور مدد کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں وزیر قانون عمر سومرو نے کراچی بار اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کے لیے فنڈز کی درخواست کی سمری جمع کرائی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کراچی بار ایسوسی ایشن کے مسائل کے حل کے لیے اضافی فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان فنڈز کی فراہمی سے انہیں کافی حد تک مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ نوجوان وکلاء کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے خاص طور پر حالیہ برسوں میں مہنگائی میں اضافہ اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے، میرے پاس کئی آئیڈیاز ہیں جیسے ایڈووکیٹ جنرلز آفس، محکمہ قانون یاپراسیکیوٹر جنرلز آفس میں انٹرنشپ یا ٹرینی شپ کے مواقع فراہم کرنا۔ جسٹس(ر) مقبول باقر نے تمام وکلاء بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قانون کے جریدے اور حالیہ فیصلوں کو پڑھ کر اپنی صلاحیتوں اور معلومات میں اضافہ کریں۔