باغبان تھوڑی سی توجہ سے آم کی کوالٹی بہتر ،زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں،ترجمان محکمہ زراعت

Mango growers

لاہور۔22نومبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ باغبان تھوڑی سی توجہ سے آم کی کوالٹی کو نا صرف بہتر بلکہ زیادہ پیداوار کے حصول کو یقینی بنا سکتے ہیں۔بدھ کو جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی آم ذائقہ کے اعتبار سے عالمی منڈی میں منفرد حیثیت رکھتا ہے اور زیادہ آم کی پیداوار حاصل کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے،پاکستان میں 0.142 ملین ایکڑ رقبہ پر آم کے باغات ہیں جبکہ پنجاب ملک میں آم کی مجموعی پیداوار 1.7ملین ٹن کا 70فیصد پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باغات کی کامیاب اور نفع بخش کاشت کاانحصار ان کی مناسب دیکھ بھال پر ہے، آم کی گدھیڑی کے بچے اور ما دہ درختو ں کی نر م شا خو ں سے اپنے منہ کی سو ئیا ں چبھو کر رس چو ستے ہیں اور جسم سے لیسدار مادہ خا رج کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتوں پر سیاہ پھپھو ندی اگ آتی ہے اس طرح عمل ضیا ئی تالیف میں رکاوٹ پیدا ہونے کی وجہ سے پودے کی خوراک کم بنتی ہے جس سے نر م شا خیں اور پھو ل خشک ہو جا تے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ماہ دسمبر میں آم کی گڈھیری کے انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے لہذا باغبان ان کی تلفی کیلئے آم کے پودوں کے گرد گوڈی کریں،تنے کے گرد زمین کھود کر کلوربائی ری فاس 10ملی لٹر فی لٹر پانی میں ملا کر ڈالیں تاکہ بچے انڈوں سے نکلتے ہی زہر کے اثر سے مرجائیں،آم کے پودوں کے تنوں پر ایک فٹ چوڑائی کا بند لگائیں اور ان کے درمیان ایک انچ اچھی کوالٹی کے گریس کا بند لگائیں تاکہ گڈھیری کے بچے اوپر نہ چڑھ سکیں اور دوسرے دن بند کے نیچے لیمڈا سائی ہیلو تھرین یا بائی فینتھرین بحساب 250ملی لٹر 100لٹر پانی میں ملا کر حسب ضرورت 3 دن تک سپرے کریں۔ ترجمان نے ہدایت کی کہ کاشتکار اس ضمن میں ایک ہی زہر کا بار بار استعمال نہ کریں۔