برآمدات میں اضافہ کے لیے حلال فوڈ کی نئی منڈیاں تلاش کرنا بہت ضروری ہے، شہزاد علی ملک

Shahzad Ali Malik
Shahzad Ali Malik

اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ کے لیے حلال فوڈ کی نئی منڈیاں تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔ اتوار کو یہاں برآمد کنندگان اور صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر حلال فوڈ پراڈکٹس کی مارکیٹ سے بھر پور استفادہ کی اشد ضرورت ہے۔ تھائی لینڈ نے اپنے روایتی کھانوں کے ورثہ کو استعمال میں لا کر اس شعبے میں ایک مثالی معیار قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھانے بھی اپنی بھرپور غذائیت، ذائقہ اور تنوع کی روایات کے ساتھ ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اور حلال فوڈ سیکٹر میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ ریسرچ، مصنوعات کی موافقت اور ٹارگٹڈ مارکیٹنگ کی بنیاد پر ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری حلال فوڈ پروڈکٹس کو دنیا میں معیار اور صداقت کی علامت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون، بین الاقوامی فوڈ نمائشوں میں شرکت اور مضبوط آن لائن سسٹم ہماری مصنوعات کی عالمی سطح پر رسائی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرٹیفیکیشن اور معیار کے ساتھ نہ صرف صارفین کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ ورلڈ فوڈ مارکیٹ میں آسان رسائی کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ شہزاد علی ملک ستارہ امتیاز نے کہا کہ تھائی لینڈ کے تجربے سے تحریک لے کر ہم حلال فوڈ کی برآمدات کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ مالی سال کے دوران تھائی لینڈ کی 5 ہزار سے زائد سرٹیفایڈ حلال فوڈ کمپنیوں نے ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد مصنوعات برآمد کیں جن کی مالیت 6 بلین ڈالر سے زائد ہے جبکہ 2020 میں یہ برآمدات 4 بلین ڈالر تھیں۔ نجی شعبے کے ساتھ ساتھ ان کے کئی سرکاری اداروں نے بھی حلال فوڈ سیکٹر میں اپنے کاروبار کی رسائی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔