برطانیہ میں مہنگائی کی شرح میں چالیس سال کی تیز ترین رفتار سے اضافہ

برطانیہ میں مہنگائی کی شرح سے چالیس سالہ کی تیز ترین رفتار سے اضافہ

اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):برطانیہ میں افراط زر کی شرح 9.1 فیصد کی بلندسطح تک پہنچ گئی ہے اور اشیاء صرف کی قیمتیں 40 سالوں میں تیز ترین شرح سے بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ خوراک، توانائی اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس ) نے کہا ہے کہ ملک میں افراط زر کی شرح 12 مہینوں میں 9.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو مارچ 1982 کے بعد اب تک کی بلند ترین سطح ہے ۔

دریں اثنا بینک آف انگلینڈ نے خبردار کیا ہے کہ اس سال مہنگائی 11 فیصد تک پہنچ جائے گی۔او این ایس کے مطابق خوراک اور غیر الکوحل مشروبات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مئی میں ایندھن کی افراط زر میں مدد کی، جس میں روٹی، اناج اور گوشت کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔یوکرین جنگ کے باعث دنیا کے دو بڑے برآمد کنندگان روس اور یوکرین کی گندم اور مکئی کی برآمدات رک چکی ہیں۔ یوکرین سورج مکھی کے تیل کا ایک بڑا پروڈیوسر بھی ہے، جس کی وجہ سے سورج مکھی کے تیل کے متبادل تیل کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔

مارکیٹ ریچ فرم کنٹر نے پیشن گوئی کی ہے کہ برطانیہ میں اس سال روز مرہ کھانے پینے کی اشیاء کے سالانہ بل میں 380 پائونڈ ( 98 ہزار 797 روپے ) کا اضافہ متوقع ہے۔برطانوی سپر مارکیٹ اسڈا نے بتایا کہ کچھ خریدار چیک آؤٹ اور پیٹرول پمپس پر 30 پائونڈ کی حد مقرر کر رہے ہیں۔اسڈا کے چیئرمین لارڈ اسٹورٹ روز نے کہا کہ صارفین کم اشیاء خرید رہے ہیں، اپنے بجٹ کم کر رہے ہیں اور مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

او این ایس کے چیف اکانومسٹ گرانٹ فٹزنر نے کہا کہ فیکٹریوں سے نکلنے والی اشیا کی قیمتیں مئی میں 45 سال کی تیز ترین شرح سے بڑھیں، جس کی وجہ خوراک کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہے۔برطانیہ میں مہنگائی کی شرح میں تیز ترین اضافے پر اپنے رد عمل میں چانسلر رشی سونک نے کہا کہ حکومت مہنگائی کو کم کرنے اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دستیات تمام وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگ روز مرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم نے خاندانوں کی مدد کے لیے ٹارگٹڈ کارروائی کی ہے، جس سے 80 لاکھ غریب گھرانوں کو 1,200 پائونڈ مل رہے ہیں۔ لیکن اپوزیشن جماعت لیبر کی شیڈو چانسلر ریچل ریوز نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی مہنگائی کے باعث ترقی اور لوگوں کا معیار زندگی مسلسل گر رہے ہیں۔ مہنگائی میں اضافے کی رفتار کو کم کرنے کے لیے، بینک آف انگلینڈ نے حال ہی میں شرح سود کو 1 فیصد سے بڑھا کر 1.25 فیصد کر دیا ہے جس سے ملک میں شرح سود 13 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔

اے جے بیل میں پرسنل فنانس کی سربراہ لورا سوٹر نے کہا کہ مہنگائی اس سال کے آخر میں ختم ہونے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ موسم سرما گزشتہ موسم سرما سے زیادہ سخت ہو سکتا ہے ۔ایندھن کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے افراط زر کی شرح بڑھ رہی ہے کیونکہ گھروں میں ایندھن اور توانائی کے بلوں سے لے کر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں تک ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔