بھارت میں عام انتخابات کے دوران پاکستان بارے بیان بازی میں تیزی بھارتی سیاسی رہنمائوں کی مایوسی ظاہر کرتی ہے، رپورٹ

مسجد کے دروازے

نئی دہلی۔15مئی (اے پی پی):بھارت میں عام انتخابات کے دوران پاکستان بارے بیان بازی میں تیزی بھارت کے سیاسی رہنمائوں کی مایوسی اور ان کے بیانیئے کی عدم مقبولیت کا اظہار ہے۔ یہ بات بی بی سی کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار آدتیہ مینن نے اس بارے کہا کہ اکثر پاکستان کو بھارتی مسلمانوں کے لیے ایک پراکسی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور ایسا بی جے پی کے ووٹروں کی توجہ مبذول کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اپنے ’’کور‘‘ ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں چونکہ ہو سکتا ہے ان کی 400 سے زائد نشستیں جیتنے کے بیان سے ان کا ووٹر تھوڑا ڈھیلا پڑ گیا ہے۔ دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سینٹر فار پولیٹیکل سٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر عامر علی نے کہا کہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ بھارت کے انتخابات میں پاکستان کا ذکر پولرائز کرنے کے لیے ہوتا ہے لیکن پاکستان کا بیانیہ بی جے پی سے پہلے سے بھی بھارتی سیاستدان استعمال کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فرق یہ ہے کہ اب یہ زیادہ براہ راست اور بھونڈا ہو گیا ہے اور اب اسے براہ راست مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے کیا جاتا ہے۔

پروفیسر عامر علی نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ رجحان خطرناک ہے کیونکہ اس سے کہیں نہ کہیں مسلمانوں کی وفاداری پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ پہلے یہ ذرا نازک انداز میں ہوتا تھا لیکن اب اس قدر واضح ہو گیا ہے کہ آپ اسے ہیٹ سپیچ کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ جوں جوں انتخابات ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے اور پھر تیسرے اور چوتھے مرحلے میں جا رہے ہیں تو اس قسم کی بیان بازی میں تیزی آنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک نظریہ تو یہ ہے کہ انھیں انتخابات کے امید کے مطابق نتائج آتے نظر نہیں آ رہے ہیں، اس لیے اس قسم کے بیانات میں شدت آتی جا رہی ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ مایوسی کا مظہر بھی ہو سکتا ہے اور اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنا بیانیہ کھو رہے ہیں اس لیے اس جانچے اورپرکھے ہوئے پاکستان مخالف بیانیے کی جانب جا رہے ہیں جس سے ان کو ماضی میں فائدہ ہوا ہے۔