بھارت نے یاسین ملک کی رہائی کیلئے مودی کو خط لکھنے پر مشال ملک کا ٹوئٹر اکائونٹ بلاک کردیا

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):بھارتی حکومت نے کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کی جانب سے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے بھارتی وزیراعظم کو خط لکھنے کے بعد ان کے ٹویٹر اکائونٹ تک رسائی بند کردی ہے۔

مشعال ملک نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی جیل میں قید ان کے شوہر تحریک آزادی کشمیرکے رہنما یاسین ملک اور مظلوم کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرنے پر بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں میرا ٹویٹر اکائونٹ بلاک کردیا گیا ہے۔ مشعال ملک نے اپنی ٹویٹ میں #NoFreedomInIIOJK اور #YasinWifeWritesLetter2Modi ہیش ٹیگ کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے اپنے خط میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے اپنے شوہر یاسین ملک کی صحت کی خرابی کے پیش نظر انہیں رہا کرنے کا ایک خط میں مطالبہ کیا تھا جو دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں بند ہیں۔

مشعال ملک نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ 22 جولائی کو بھوک ہڑتال پر جانے کے فیصلے کے بعد ان کے شوہر بھارتی حکومت کی بے حسی اور صحت کی خراب حالت کی وجہ سے آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کشمیریوں کی آزادی کی اس آواز کو کوئی نقصان پہنچا تو ان کے قتل کی ذمہ دار بھارتی حکومت ہوگی۔

مشعال ملک نے محمد یاسین ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صحت کی حالت پر اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو ڈیمارچ کرنے پر پاکستان کی وزارت خارجہ کی تعریف کی۔

مشال ملک کے ٹویٹر اکائونٹ کو بلاک کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کو مختلف حلقوں کی طرف سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے نریندر مودی حکومت کے فاشزم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایک امریکی ماہر تعمیرات ٹونی اشائی نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ انہوں نے ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل بھارت میں میرا اکائونٹ بھی بلاک کر دیا تھا، میرا مشورہ ہے کہ ایک نیا اکائونٹ کھولیں اور اس بات کو پھیلاتے رہیں۔

برطانیہ میں مقیم ایک کشمیری کارکن ریحانہ علی نے کہا کہ آپ، میں اور دیگر ساتھی تکلیف میں ہیں، ٹویٹر بھارت کے ساتھ تعاون کررہا ہے جو بھارت اور امریکہ کی طرف سے آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی ہے اور ان دیگر دیگر ممالک میں بھی جہاں ٹویٹر کام کر رہا ہے۔