بین الاقوامی قانون کی پابندی سب کے لیے یکساں طور پر لازم ہے، متحدہ عرب امارات کے فلسطین پر اسرائیلی قبضےکے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں دلائل

United Arab Emirates
United Arab Emirates

دی ہیگ۔22فروری (اے پی پی):متحدہ عرب امارات نے فلسطین پر اسرائیلی قبضےکے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ بین الا قوامی قانون کی پابندی سب کے لیے یکساں طور پر لازم ہے، قانون کا سب پر اطلاق ہونا چاہیے۔ اردو نیوز کے مطابق یہ موقف متحدہ عرب امارات کی سفیر لانا نصیبہ نے گزشتہ روز بین الاقوامی عدالت انصاف(آئی سی جے) میں پیش کیا ۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں 52 ممالک اور تین عالمی تنظیمیں غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف دلائل پیش کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی عدالت انصاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی درخواست پر فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف سماعت کر رہی ہے جو 6 روز تک جاری رہے گی۔ عدالت کی ان سماعتوں میں فلسطینیوں کی آبادی کا تناسب بدلنے کی اسرائیلی کوششوں کے علاوہ مشرقی بیت المقدس کے سٹیٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی سفیر نے عدالت کے سامنے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی پابندی سب کے لیے لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کےساتھ گزشتہ 7عشروں سے جاری نا انصافیوں کے پس منظر میں مسئلہ فلسطین پر اس قانون کا اطلاق ناگزیر ہو چکا ہے۔

سفیر نے ہیگ میں قائم عدالت کے 15 ججوں کے پینل کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات دو ریاستی حل کے ذریعے ایک آزاد فلسطینی ریاست کےقیام کے موقف کا اعادہ کرتا ہے کیونکہ منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ فلسطینی عوام کے طویل عرصے سے مستردکیا گیا حق انہیں لوٹا دیا جائے تاکہ حق خودارادیت کی بنیاد پر 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو سکے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے بالعموم مقبوضہ بیت المقدس میں مقدس مقامات تک زائرین کو مفت رسائی کی اجازت دینے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوتاہی کا ارتکاب کیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کا خصوصی کردار بھی ہمیشہ مجروح کیا ہے اور اس کے ثقافتی ورثے کو ختم کر دیا ہے۔

امارات کی سفیر نے دلائل کو پیش کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوجی کارروائی ختم کرنی چاہیے۔ محصور غزہ میں امدادی اشیا پہنچانے کی اجازت دینی چاہیے نیز فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی روکی جانی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو سلامتی کونسل کے تمام فیصلوں پر عمل کرنا چاہیے نیز رکن ممالک کو اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے میں تعاون کرنا چاہیے۔

اماراتی سفیر لانا نصیبہ نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اپنی آزاد ، خوشحال اور محفوظ ریاستوں میں ترقی کرتے ہوئے رہنا چاہیے۔ اسرائیل نے ابھی تک بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اپنے دلائل زبانی پیش کرنے کا فیصلہ نہیں کیا مگر تحریری طور پر اپنا موقف عدالتی سماعت شروع ہونے سے بھی پہلے عدالت کو پیش کر دیا جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے عدالت میں سماعت کو قابل نفرت اورذلت آمیز قرار دیا ہے۔