ترکی کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں، اہم صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے مراعات دے رہے ہیں ، وزیراعظم

عوام بھرپور جذبے کے ساتھ گھروں سے نکلیں، ووٹ کا حق استعمال کریں، وزیر اعظم شہباز شریف کا ٹویٹ

اسلام آباد۔31مئی (اے پی پی):وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ترکی کے ساتھ تجارت، معیشت ، توانائی ، بنیادی ڈھانچے ،ای کامرس اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوںمیں تعلقات کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، دونوں ممالک کاموجودہ تجارتی حجم حقیقی استعداد سے مطابقت نہیں رکھتا، پاکستان میں پرکشش منافع کے ساتھ سرمایہ کاری کےوسیع مواقع ہیں، ترک کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں گے، دونوں ممالک جموں و کشمیر اور شمالی قبرص سمیت بنیادی قومی مفاد کے تمام معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں،

پاکستان امریکا کے ساتھ طویل المعیاد اور وسیع الابنیاد تعلقات ہیں، امریکا پاکستان کے لئے بڑی برآمدی مارکیٹ اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اورترسیلات زر کا بڑا ذریعہ ہے،سی پیک کا ایک اہم محور پاکستان کی صنعتی ترقی ہے، دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے بھارت کو 5 اگست 2019 کے غیر قانونی و یک طرفہ اقدامات پر نظر ثانی کرنا ہو گی، بھارتی بربریت اور کشمیری عوام کے بنیادی حق حق خود ارادیت سے مسلسل انکار کی وجہ سے تجارتی محاذ پر پیشرفت مشکل ہے، افغانستان میں انسانی بحران اور معاشی بد حالی کے مسئلے کے حل کے لئے دنیا کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے،خودکفالفت کا حصول ،سیاسی استحکام ،تنزلی کا شکار معیشت کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے،سابق حکومت کے غلط فیصلوں کی قیمت ہمیں چکانا پڑرہی ہے،

آئی ایم ایف سے قسط کے اجرا سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے بین الاقوامی مارکیٹ کااعتماد بحال اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائومیں کمی آئے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ترکی کے دورے سے قبل اناطولیہ نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مثالی تعلقات ہیں اور یہ تاریخی تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت ،لسانی رابطوں کی مضبوط بنیاد پراستوار ہیں اور دونوں ممالک نے سیاسی تبدیلیوں سے مبرا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک رواں سا ل سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور ان پچھلے ساڑھے سات عشروں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے۔

پاکستان اور ترکی جموں و کشمیر اور شمالی قبرص سمیت بنیادی قومی مفاد کے تمام معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ تنازعہ جموں و کشمیر پر ترکی اور بالخصوص اس کی قیادت کی اصولی حمایت پر شکریہ اد کریں گے۔ پاکستان اور ترکی کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر یکساں خیالات ہیں اور دوطرفہ علاقائی اور کثیر طرفہ فورم پر دونوں کے درمیان قریبی تعاون ہے۔ عوام کی سطح پر ثقافتی رابطے فروغ پا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم ہمارے بہترین تعلقات کی ابھی تک صحیح عکاسی نہیں کرتا۔ اس سلسلہ میں دونوں ممالک کے لئے وسیع امکانات موجود ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دورہ کے دوران وہ ترکی کی ممتاز کاروباری کمپنیوں کے حکام سے ملاقات کریں گے جس کا مقصد پاکستان میں توانائی، بنیادی ڈھانچے ، ای کامرس ، میونسپل زرعی انڈسری اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان میں پائے جانے والے وسیع مواقع سے استفادہ کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 22 کروڑسے زائد کی آبادی والے ملک پاکستان میں وسعت پذیر متوسط طبقے کے ساتھ سرمایہ کاروں کے لئے ایک مضبوط اور بڑی صارف مارکیٹ موجود ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش مواقع کے ساتھ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستا ن اور امریکا کے درمیان باہمی مفاد کےمختلف شعبوں میں طویل المعیار اور وسیع الابنیاد تعلقات ہیں۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے درمیان مسلسل تعمیری رابطے سے علاقے میں امن ،سلامتی اور ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم امریکا کے ساتھ اپنا رابطہ مضبوط اور وسیع بنانا چاہتے ہیں جو کہ پاکستان کے لئے بڑی برآمدی مارکیٹ اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری و ترسیلات زر کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی ،صحت ، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں مذاکرات کئے ہیں جو دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ امریکا کی کچھ کمپنیاں پاکستان میں بہت اچھا کام کررہی ہیں۔ ہم پاکستان کی پرکشش مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے اور تجارتی تعلقات بالخصوص آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لئے بڑی امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان اور امریکا اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہےہیں۔

سی پیک سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بیلٹ اینڈروڈ انیشی ایٹو کے تحت رابطہ اور تعاون میری حکومت کی ترجیحات اور ایک پر امن و خوشحال خطے کے لئے پاکستان کے وژن کے عین مطابق ہے۔ پاکستان چین کے صدر شی جن پنگ کے وژن کے طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے عملی رابطے ، معالی تعاون ،تجارت میں سہولت ، پالیسی مشاورت اور عوام کی سطح پر رابطوں کے بی آر آئی کے 5 نکات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ سی پیک اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہےاور اس سے بیلٹ اینڈروڈ تعاون کے ذریعے پاکستا ن کو صنعتی اوراقتصادی طورپر جدید بنانے کا عمل تیز ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ مقصد کی کامیابی کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ پاکستان اورچین سی پیک کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے عمل کوبرقرار رکھیں۔ اقتصادی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسلسل پالیسی ، حمایت کے ذریعے کاروباری ماحول کو مل کر بہتر بنایا جا نا چاہیے۔ ہم ایم ایل ون پرپیشرفت کے لئے چین کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

یہ منصوبہ پاکستا ن کے کثیر الجہتی علاقائی رابطے کے ماڈل وژن اور بعض دیگر بڑے منصوبوں کے لئے تزویراتی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں سڑکوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں چین کی سرمایہ کاری سے بجلی کی قلت پر قابو پانے ، پیداواری مراکز کو منڈیوں سے ملانے میں مدد ملی ہے۔ ہزاروں مقامی افراد کےلئے روزگار کے مواقع پیداہوئے ہیں اور علاقائی رابطے کو فروغ ملا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کا ایک اہم محور پاکستان کی صنعتی ترقی ہے، سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز پر کام جاری ہے۔ ہم اہم صنعتی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے مراعات دے رہے ہیں۔ پاکستان ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور گوادر پورٹ سے مکمل استفادے سمیت سی پیک کے اعلیٰ معیار کی ترقی کے حصول کے لئے پرعزم ہے۔

بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جیو اسٹریٹجک سے جیو اکنامکس کی طرف گامزن ہے، ہم بالخصوص خطے میں رابطے، اجتماعی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد پر شراکت داری قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت نے باہمی فائدہ مند تجارت سے بہت کچھ حاصل کرنا ہے تاہم 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات پر پاکستان نے اصولی موقف اختیار کیا اور دو طرفہ سرگرمیوں کی ایک حد تک کم کردیا۔ یہ فیصلہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی بھارت کی غیر منصفانہ اور غلط پالیسی کی واضح مذمت کاعکاس ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ صحت مند تجارتی سرگرمی سےحاصل ہونےوالے اقتصادی ثمرات سے آگاہ ہیں تاہم کشمیری عوام کے خلاف جاری بھارتی بربریت ، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں کشمیرمیں آبادی کا تناسب تبدیل کرنےاور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق حق خود ارادیت سے مسلسل انکار کی وجہ سے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ تجارتی محاذ پر کوئی پیشرفت ہو سکتی ہے۔ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بھارت کو 5 اگست 2019 کے اپنے اقدامات پر نظرثانی کرنا ہو گی اور مقبوضہ وادی پر غیر قانونی قبضہ برقراررکھنے کے لئے مزید تقسیم اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے اقدامات روکنا ہوں گے۔

افغانستان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ عبوری افغان حکومت کے ساتھ رابطہ مرضی نہیں ضرورت کامعاملہ ہے۔ دنیا افغان عوام کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔ افغانستان میں انسانی بحران اور معاشی بد حالی کے مسئلے کے حل کے لئے دنیا کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ افغان معیشت کی مکمل تباہی افغان عوام ،

پاکستان اور عالمی برادری کے لئے تباہ کن ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عبوری حکومت پر زوردے رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی وعدے پورے کرے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہو گی اور خواتین تعلیم حاصل کر سکیں گی اور ایک جامع حکومت قائم کریں گے۔

عالمی برادری کو بھی ان وعدوں پر عملدرآمد کے لئے رابطہ رکھنا چاہیے اور یہ اسی صورت میں ایک پرامن ، مستحکم اور خوشحال افغانستان کے مشترکہ مقاصد پر پیشرفت ہو سکے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ افغان حکام نے بار بار ہمیں اور عالمی برادر ی کو یقین دہانیاں کرائی ہیں کہ وہ اپنی سر زمین کسی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور انہوں نے تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور اپنے علاقے سے ان کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خاتمے، علاقے اور اپنے ملک میں امن واستحکام کے لئے کے لئے تمام راستے اختیار کریں گے۔

او آئی سی کے حوالے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کے بانی ارکان میں شامل ہے اور ہم نے او آئی سی کو فعال بنانے اورمسلمان ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کے فروغ کے لئے ایک سرگرم اور بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ برادارنہ اور اچھے تعلقات ہیں اور یہ تعلقات مشترکہ اقدار ، مذہب ، تاریخ ، ثقافت اور روایات پر منبی ہیں ۔ امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کے لئے ہم اپنی کوششیں کرتے رہیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح وزیراعلیٰ کے طورپر انہوں نے کامیابیاں اور ترقی کے لئے کام کیا ہے اسی طرح چاہئیں گے کہ وزیراعظم کے منصب پر رہتے ہوئے بھی کام کریں تاہم اس وقت صورتحال مختلف تھی اور اب ہمیں جن چیلنجوں کا سامنا ہے وہ شدید نوعیت کے ہیں۔ معاشی بحالی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ اتحادی حکومت کے سامنے ایک واضح قومی ایجنڈا ہے اور پہلا اور اولین چیلنج معیشت کی بحالی ہے جو پچھلے چار سال کے دوران تنزلی کا شکار ہوئی۔

ہماری حکومت اہم قومی امور پر اتفاق رائے کے ذریعے سیاسی استحکام کا حصول چاہتی ہے اور ہمارے لئے تیسرا چیلنج نتیجہ خیز نظم و نسق کو یقینی بنانا ہے۔ عوام کو زندگی کےہرشعبے میں ماضی کے خراب نظم و نسق کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ ہمیں موثر خدمات کی فراہمی کے لئے حکومت کی صلاحیت پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنا اور نظام کو درست سمت میں استوار کرنا ، ملک میں انتخابی اصلاحات کے ذریعے شفاف، منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کے لئے اقدامات کرنے ہیں ،ا س سلسلہ میں اتحادی حکومت کے شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ 5 سال کے لئے خوشحالی کا وژن دینے لئے کوشاں ہیں۔ میں انتقام اور بیان بازی کی بجائے خدمات کی فراہمی اور عملی اقدام کی سیاست کا حامی ہوں۔ ہماری حکومت میں چاروں صوبوں کی تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے۔

ماضی کے حریفو ں نے آج کے چیلنجوں کے خاتمہ کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے بالغ نظری کامظاہرہ کیاہے۔ ہم کسی قسم کے انتشار کی بجائے اتفاق رائے پیدا کرنے ، وسیع الابنیاد مشاورت اور خود کفالت کے اصول اور سیاسی استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ 11 اپریل 2022 سے اقتدار سنبھالنے کے بعد معیشت کو مضبوط بنانا موجودہ اتحادی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی مالیاتی دبائو اور بالخصوص بین الاقوامی سطح پراشیا اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے پیداہونے والے صورتحال کے ساتھ ساتھ ہم افراط زر اور اشیائے خوردنی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی شکل میں ملکی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ ہمیں سابق حکومت کے غلط فیصلوں کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

بروقت ایندھن کی خریداری میں ناکامی اور ضروری اشیا کے لئے سٹریٹجک ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے بعد میں زیادہ قیمت پر خریداری کرنا پڑی ہے جس کا اثرلوگوں پرپڑا ہے۔ موجودہ حکومت سماجی اور اقتصادی اشاریے اور بالخصوص اور کم آمدنی والے طبقے کی حالت بہتر بنانے کے لئے پرعزم ہے۔حکومت سخت مالیاتی پالیسی ، مالیاتی خسارے میں کمی، غریبوں کے لئے ریلیف پیکج اور ضروری اشیا کے سٹریٹجک ذخائر میں اضافے کے لئے کام کررہی ہے۔ ہم پر امید ہیں کہ آئی ایم ایف اگلی قسط جاری کردے گا جس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے بین الاقوامی اعتماد بحال ہو گا اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو میں کمی آئے گی