تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی کا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب

تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی کا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی نے کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں تعلیم کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ڈیجیٹل انقلاب نے سیکھنے کے طریقے بدل دیئے ہیں جبکہ تعلیم کے لیے وقت اور جگہ کی رکاوٹیں اب کوئی مسئلہ نہیں ہیں۔ انہوں نے تدریس اور سیکھنے میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ تعلیم معاشرے کو مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

مدد علی سندھی کا کہنا تھا کہ تعلیم ہماری قوم کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایجوکیشن نے اقراء یونیورسٹی اور انٹرنیشنل سنٹر آف ایکسیلینس کے اشتراک سے کیا ہے۔ کانفرنس میں قومی اور بین الاقوامی سکالرز کی جانب سے 50 کے قریب مقالے پیش کیے جا رہے ہیں۔چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے خطاب میں کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ تعلیم میں سرمایہ کاری نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان قوم کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال یورپ کے لیے سب سے زیادہ سکالرشپس حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے، ہمیں باقی دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ ڈاکٹر مختار نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی سیکھنے کے عمل کو منتقل کرنا مستقبل کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ انہوں نے پرائمری، ووکیشنل اور اعلیٰ تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے تعلیم کے تینوں شعبوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر ثمینہ ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ تدریس کے عصری تقاضوں کی روشنی میں اساتذہ کی تربیت ایک کامیاب نظام تعلیم کے لیے لازمی شرط ہے۔

انہوں نے رائے دی کہ باقی دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے درس و تدریس کے جدید طریقے اپنائے جانا ضروری ہیں۔ ڈاکٹر ثمینہ نے جدید طرز تعلیم اور مطلوبہ تربیت کی مدد سے اعلیٰ تعلیم میں انقلاب برپا کرنے میں ایچ ای سی کے کردار کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس تدریس میں جدید طریقوں اور جدید تکنیکوں کے لیے حکمت عملی اور پالیسیاں وضع کرنے کے لیے سفارشات لانے میں معاون ثابت ہوگی۔

کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں کلیدی خطبہ محمد اظفر احسن، بانی اور سی ای او نٹ شیل گروپ اور پروفیسر ڈاکٹر گراہم سپکٹ جونز نے دیا۔ کانفرنس سے صدر اقرا یونیورسٹی کراچی ڈاکٹر ناصر اکرام، نائب صدر اکیڈمکس بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن اور جامعہ کے ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن ڈاکٹر محمد سرور نے بھی خطاب کیا۔