جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اور جبری قبضے کے 75 سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ منایا گیا

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اور جبری قبضے کے 75 سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ منایا گیا ۔اس موقع پر جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کی مذمت اور کشمیر کاز کےلئےپاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بے گناہ کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے اور گزشتہ 75 سالوں میں بھارتی قابض افواج کے ظلم و بربریت کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے ملک بھر میں اور دنیا بھر میں پاکستان کے سفارتی مشنز میں سیمینارز، ویبینارز، پینل مباحثوں اور تصویری نمائشوں سمیت وسیع پیمانے پر سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔

صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے اس موقع پر اپنے خصوصی پیغامات میں کشمیریوں کی حمایت کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارتی غیر قانونی قبضہ ختم کرانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے، انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں اور کشمیریوں کے خلاف جابرانہ اقدامات بند کرائے جائیں ۔

وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو خطوط لکھ کر انہیں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے ہندوستان کی طرف سے سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مقبوضہ خطے کے لوگوں کو حق خود ارادیت سے مسلسل انکار پر افسوس کا اظہار کیا۔اس دن کی مناسبت سے وزارت خارجہ سے ڈی چوک تک خصوصی کشمیر یکجہتی واک کا اہتمام کیا گیا جس کی قیادت وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے کی۔

دفتر خارجہ کے تمام افسران اور عملے نے کشمیر کاز سے اظہار یکجہتی کے لیے واک میں شرکت کی۔ واک سے قبل دفتر خارجہ میں ایک یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر مملکت نے کشمیر کے یوم سیاہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کشمیریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے چنار کا پودا بھی لگایا۔ سیکرٹری خارجہ نے دفتر خارجہ میں او آئی سی، پی-5 اور یورپی ممالک کے سفارتکاروں کو خصوصی بریفنگ دی اور انہیں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سے محروم کرنے کے لیے بھارت کی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا۔

سفارت کاروں کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم پر ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی۔ تمام سرگرمیوں کا مقصد دنیا کو 5 اگست 2019 کو شروع کیے گئے اس کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے پیچھے بھارت کے مذموم عزائم کی یاد دلانا تھا جس نے مقبوضہ خطے کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کیا اور اس کے نتیجے میں قابل مذمت اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جس میں مقبوضہ علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنے کی کوشش، اقوام متحدہ کے چارٹر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قانون کی سراسر خلاف ورزی شامل ہے۔

بھارت نے 75 سال قبل 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں اپنی فوجیں زبردستی اتاریں اور تب سے اس نے اس علاقے پر غیر قانونی قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان 75 سالوں میں، بھارت نے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر اور منظم خلاف ورزیوں کا سہارا لیا، ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل کو جنم دیا اور انسانی حقوق کے اصولوں اور انسانی قوانین کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کو کچلنے کے لیے غیر انسانی طریقے استعمال کیے ہیں۔ 5 اگست 2019 کو بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی غیر قانونی اور یکطرفہ منسوخی کے بعد سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

گزشتہ تین سالوں میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں معصوم کشمیریوں کے تقریباً 690 ماورائے عدالت قتل ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ سرکردہ حریت رہنماؤں کو غیر قانونی طور پر قید یا گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مختلف قراردادوں کے باوجود، تنازعہ کشمیر کے حتمی حل کا فیصلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا حکم دینے کے باوجود بھارت نہ صرف مقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضہ کئے ہوئے ہے بلکہ اپنے غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے مظلوم کشمیریوں پر مظالم کو بھی اضافہ کر دیا ہے لیکن کسی بھی قسم کی بربریت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یا غیر قانونی جابرانہ اقدامات کشمیریوں کے جذبے کو پست نہیں کر سکتے جو اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے 75 سال سے جاری جدوجہد میں پرعزم ہیں۔