حق خودارادیت کے بنیادی اصول پر عمل درآمد میں ناکامی اقوام متحدہ کے چارٹر سے انخراف ہے، پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان

جنرل اسمبلی نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ریلیف سسٹم کو تقویت دینے کے لیے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد منظور کر لی

اقوام متحدہ ۔1نومبر (اے پی پی):پاکستان نےلوگوں کے حق خودارادیت کے بنیادی اصول پر عمل درآمد میں ناکامی کو اقوام متحدہ کے چارٹر سے انخراف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کاحق خودارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر کا بنیادی اور ضروری اصول ہونے کے باوجود کشمیریوں سمیت لاکھوں افراد مسلسل غیر ملکی تسلط اور قبضے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان نے جنرل اسمبلی کی سماجی، انسانی اور ثقافتی امور کی تھرڈ کمیٹی میں لوگوں کے حق خودارادیت کے حق پر بحث کرتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کے نفاذ پر عمل درآمد میں ناکامی کی قیمت غیر ملکی تسلط اور قبضے میں زندگی گزرنے والی نسلیں اپنی جانوں کی قربانی دینے کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ وحشیانہ اور پرتشددطریقے سے لوگوں کے حقوق کو دبانا ، ماورائے عدالت قتل، غیر قانونی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، عصمت دری اور جنسی تشدد، ٹارچر، کرفیو، مواصلاتی بلیک آؤٹ، شہری آبادیوں کا لاک ڈاؤن، غیر قانونی آبادکاری اور آبادی کے تناسب میں تبدیلیاںسلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

پاکستانی نمائندہ نے کہا کہ حق خودارادیت کا آزادانہ استعمال کیا جانا چاہیےاور اسے دہشت گردی سے جوڑ کر اسے مبہم یا داغدار نہیں کیا جانا چاہیے لیکن بین الاقوامی قانون کے ان واضح احکامات کے باوجود لاکھوں افراد غیر ملکی تسلط اور قبضے میں زندگی بسر کر رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر سے انخراف ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں 75سالوں سے کشمیریوں کا خون بہایا جارہا ہے اور اس دوران ایک لاکھ کشمیریوں کو قتل کیا گیا جنہیں اقوام متحدہ کے وعدہ کیے گئے اپنے ناقابل تنسیخ حق حق خودارادیت کے حصول کے لیے دہائیوں سے قبضے کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے 2019 میں غیر قانونی طور بھارتی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں کو غیر قانونی گرفتار اور اغوا کیا گیا اور انہیں ظلم و بربریت اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا جہاں زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے ہسپتالوں کی کمی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر تشدد، غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک اور غیر قانونی گرفتاریاں، تلاشی و محاصرے کی کارروائیوں کے دوران بچوں سمیت ہزاروں نوجوانوں کو رات کے اندھیرے میں اغوا کیا گیا جن کی کوئی معلومات نہیں ہیں، ہسپتالوں میں ادویات اور عملے کی خطرناک حد تک کمی ہونے کے باعث زیادہ تر افراد اپنی جان کی بازی ہار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت تاریخ کے اس سبق کو نظر انداز کرتا ہے کہ لوگوں کی آزادی کی تڑپ کو وحشیانہ طاقت سے کبھی کچلا نہیں جا سکتا۔بھارت تاریخ کے اس سبق کو بھول رہا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کبھی دبایایا کچلا نہیں جا سکتا ہے۔ پاکستانی نمائندہ عامر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر اس وقت تک رہے گا جب تک کشمیری عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حق ، حق خودارادیت کے حصول کے لیے سلامتی کونسل کی طرف سے طے شدہ متفقہ طریقہ کار کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے نہیں دیا جاتا۔