دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو با اختیار بنانے کیلئے پالیسی اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پیغام

وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج (منگل کو ) پوری دنیا میں آبادی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے،آج کے دن ہمیں دنیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، اس کے لئے موجود محدود وسائل اور اسے با اختیار بنانے کیلئے پالیسی اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، قومی سطح پر منصوبہ بندی میں آبادی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے آبادی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہاکہ آج پوری دنیا میں آبادی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ آج کے دن ہمیں دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی، اس کے لئے موجود محدود وسائل اور اسے با اختیار بنانے کیلئے پالیسی اقدامات پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر منصوبہ بندی میں آبادی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔کوئی بھی ترقی پزیر ملک آبادی اور وسائل کے توازن کے بغیر اپنے ترقی کے اہداف پورے نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی ملک چاہے کتنا بھی وسائل سے مالامال کیوں نہ ہو، آبادی میں تیزی سے اضافہ اس کے لئے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

اس سال آبادی کے عالمی دن کا موضوع “صنفی مساوات کی طاقت کو بروئے کار لانا” ہے۔ آئیں اس دن ہم سب مل کر اپنے ملک کی خواتین اور مردوں کے مابین مساوات سے ان کی صلاحیتوں کے بھرپور استعمال سے ملکی ترقی کے اہداف پورے کرنے کیلئے اقدامات کریں۔پاکستان کی باصلاحیت خواتین کی قومی دہارے میں شمولیت ہمیں ملکی ترقی اور افرادی قوت کی استعداد بڑھانے کے اہداف کے حصول میں بھی مدد دے گی۔صنفی مساوات صرف انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشی ضرورت بھی ہے۔

پاکستان کی معاشی ترقی آبادی کے مابین مساوات کے بغیر ممکن نہیں۔موسمیاتی تبدیلی، بین الاقوامی سطح پر تنازعات اور کساد بازاری کی وجہ سے تقریباً تمام ممالک پائیدار ترقی کے اہداف ( ایس ڈ ی جیز) کے حصول میں مشکلات سے دوچار ہیں۔ صنفی عدم مساوات کی وجہ سے پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

آبادی کے عالمی دن کے موقع پر میں تمام سٹیک ہولڈرز سے التماس کروں گا کہ وہ لوگوں کو تعلیم اور صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی سے ان کی استعداد میں اضافہ کریں۔میری نظر میں ترقی کا صحیح نظریہ لوگوں کی فلاح پر مبنی ہے۔ ہمیں اس حوالے سے لوگوں اور پالیسی سازوں کے مابین روابط کو بڑھانا ہوگا۔