زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ملک بھر کی پہلی اور ایشیا کی دسویں بہترین یونیورسٹی قرار

University of Agriculture Faisalabad

فیصل آباد۔ 15 اپریل (اے پی پی):دنیا کی سب سے معتبر رینکنگ ایجنسی کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ نے 2024ء کی حالیہ درجہ بندی میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو دنیا کی 56ویں بہترین یونیورسٹی قرار دیا ہے جبکہ ایشیاء میں دسویں اور ملک بھر سے رینکنگ میں شامل جامعات میں یونیورسٹی گزشتہ دس برسوں میں نمبرون جامعہ کا اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہے۔

تفصیلات کے مطابق کیوایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ کی گزشتہ سال کی جانیوالی رینکنگ میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو سبجیکٹ کیٹیگری ایگریکلچرو فارسٹری میں دنیا کی 66ویں‘ ایشیاء کی 12ویں جبکہ ملک کی بدستور پہلے نمبر کی جامعہ قرارپائی تھی۔ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں (ہلال امتیاز،ستارہ امتیاز)کی قیادت میں زرعی یونیورسٹی نہ صرف بین الاقوامی درجہ بندی میں ترقی کی طرف گامزن ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کے مسائل کے حل اور کمیونٹی سروس میں بھی اپنا خاص مقام رکھتی ہے۔ اس یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے حکومتی سطح پر دس سالہ زرعی پالیسی مرتب کی ہے جس کی بدولت زرعی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے ساتھ ساتھ خوشحالی اور پیداوار میں اضافے کو ممکن بنایا جاسکے۔

علاوہ ازیں کاشتکاروں کے ساتھ تعلقات کو پروان چڑھانے کیلئے آؤٹ ریچ پروگرام کے تحت میلہ جات اور سینکڑوں آگاہی سیمینارز کا انعقاد اس جامعہ کا خاصہ رہا ہے۔ ڈاکٹراقرار احمد خاں نے فیکلٹی کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی یہ ادارہ مزید کامیابیاں و کامرانیاں سمیٹتے ہوئے غذائی استحکام کے حصول میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ملک کی واحد دانش گا ہ ہے جو کیوایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں گزشتہ ایک دہائی سے دنیا کی ٹاپ 100جامعات میں شامل ہے جبکہ ملک کی نمبرون یونیورسٹی کا اعزاز رکھے ہوئے ہے جوایگریرین کمیونٹی اور پورے ملک کیلئے فخر کی بات ہے۔

ڈائریکٹر اورک پروفیسرڈاکٹر محمد جعفر جسکانی کے مطابق امسال درجہ بندی کیلئے ابتدائی فہرست میں شامل کی گئی جامعات کی تعداد گزشتہ تمام رینکنگ کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ہے، اس طرح بڑھتی ہوئی جامعات کی تعداد کے تناظر میں بہتر ہوتی ہوئی پوزیشن ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے جو گزشتہ چند برسوں کے دوران بین الاقوامی سطح پر کوالٹی کے تمام پیرامیٹرز یعنی اکیڈمک شہرت‘دنیا بھر میں اس کے گریجوایٹس کی تسلی بخش کارکردگی و ملازم رکھنے والے اداروں کی مثبت رپورٹنگ‘ ہر تحقیقی مقالہ کی سائی ٹیشن‘ انٹرنیشنل ریسرچ نیٹ ورکنگ یعنی ایچ انڈیکس میں بڑھتا ہوا گراف بہتری کی جانب اقدامات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔