سمگلنگ بالخصوص ڈالر، ایرانی تیل اور غیر قانونی افغان شہریوں کےخلاف کریک ڈائون جاری رہا تو روپے کی قدر مزید مستحکم ہو گی، مہرکاشف یونس

مہر کاشف یونس

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ ہر قسم کی سمگلنگ بالخصوص ڈالر، ایرانی تیل اور غیر قانونی افغان تارکین وطن کیخلاف کریک ڈائون کسی دبائو کے بغیر جاری رہا تو پاکستانی روپے کی قدر مزید مستحکم ہو گی۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر بدعنوان عناصر کی مکمل سرکوبی اور تمام خامیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے تو ہم اپنے ذخائر کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتھک کوششوں، سٹریٹجک پالیسیوں اور بین الاقوامی تعاون کی وجہ سے کرنسی اور ضروری اشیا کی سمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل بڑھ رہا ہے جو معاشی استحکام کی طرف ہمارے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ہماری مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتی ہے بلکہ پاکستان کے معاشی منظرنامے کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے۔

ڈالر، ایرانی تیل کی غیر قانونی تجارت اور غیر قانونی افغان شہریوں کے معاملے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ان اقدامات نے ہماری معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق ایرانی تیل کی سمگلنگ نے قومی خزانے کو 60 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں ڈالر کی سمگلنگ کے مختلف چینلز کو مکمل طور پر روکنے کا اہم کردار ہے، افغانستان اس کا ایک راستہ تھا لیکن حوالہ اور ہنڈی بھی بہت نقصان دہ ہیں جنہیں مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انڈر انوائسنگ کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور چین کے امپورٹ اور ایکسپورٹ کے سرکاری اعداد و شمار میں تقریباً 4 بلین ڈالر کا فرق ہے۔

چینی حکام کے اعدادوشمار کے مطابق چین سے پاکستان کو برآمدات 4 سے 6 بلین ڈالر زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمگل شدہ اشیاءکی فہرست بہت طویل ہے جس میں الیکٹرانک آلات، سپیئر پارٹس، خام مال اور بہت کچھ شامل ہے۔ مہر کاشف یونس نے کہا کہ اگر ان عوامل پر قابو پا لیا جائے تو ہم اپنے ذخائر میں 8 سے 10 بلین ڈالر کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر اور محصولات کی چوری مکمل طور پر روک دی جائے تو ہم اپنی موجودہ تجارت سے ہی اپنی ملکی اور عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔