سٹاک ایکسچینج کسی بھی ملک کی معیشت کو جانچنے کا اہم پیمانہ ہے،کاشف انور

Lahore Chamber of Commerce and Industry
Lahore Chamber of Commerce and Industry

لاہور۔12فروری (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کے اشتراک سے گزشتہ روز آگاہی سیشن منعقد کیا گیا۔ترجمان کے مطابق ایل سی سی آئی لاہور میں منعقدہ اس سیشن کی صدارت لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے کی جبکہ اس موقع پر ڈائریکٹر پاکستان اسٹاک ایکسچینج احمد چنائے، سی ای او فرخ خان، جی ایم رائیدہ لطیف اور جاوید قریشی نے بھی خطاب کیا۔لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے کہا کہ سٹاک ایکسچینج کسی بھی ملک کی معیشت کو جانچنے کا اہم پیمانہ ہے ۔

اس وقت پاکستان اسٹاک ایکسچینج اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آگاہی سیشن کا مقصد لاہور چیمبر کے ممبران کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کے بارے میں آگاہ کرنا اور انہیں اس کے ساتھ منسلک ہونے کی ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آگاہی سیشن کے ذریعے سرمائے اور لیکویڈیٹی کے مسائل کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ ایک غلط فہمی ہے کہ ایس ایم ایز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ساتھ لسٹڈ نہیں ہوسکتیں، اس سلسلے میں بہت سے مسائل حل ہو چکے ہیں لہذا ایس ایم ایز پاکستان سٹاک ایکسچینج کا حصہ بنیں جس سے انہیں بہت فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے درمیان روابط بہت بہترین اور فائدہ مند ہیں۔ ڈائریکٹر پاکستان اسٹاک ایکسچینج احمد چنائے نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچنج نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں اور لوگوں کو ڈور ٹو ڈور مہم کے ذریعے اس کے فوائد سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ، سرمایہ کاری اور دیگر معاملات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاروں کے لیے بہترین فورم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور کمپنی صرف 29دن میں اینلسٹمنٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لسٹڈ کمپنیاں مارکیٹ ویلیو پر لوگوں کو شیئر ہولڈر بناتی ہیں۔ یہ مختلف نوعیت کے تجربات اور مشورہ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مقامی کمپنیاں ایک بین الاقوامی برانڈ بنتی ہیں اور ان کا پروفائل بھی بہتر ہوتا ہے۔

اس وقت اسٹاک مارکیٹ میں 534 ایلیٹ کمپنیاں درج ہیں اور ہماری مقامی کمپنیاں بھی لسٹڈ ہونے سے ایلیٹ کمپنیوں کا درجہ حاصل کر لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کمپنیوں کی آمد سے معیشت کی ترقی ہوتی ہے اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں اضافہ ہوتا ہے۔اس موقع پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے اغراض و مقاصد کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی گئی۔