سٹیل ٹائون میں علمااور موذن حضرات کو سٹیل انتظامیہ کے فنڈزسے 4 ماہ کی رکی ہوئی تنخواہ کی ادائیگی ہو گئی ہے، فنڈزکی کمی کےباعث آئندہ سٹیل ٹائون میں مقیم افراد سے وصولی کر کے تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے گی،مرتضی سولنگی

Murtaza Solangi
Murtaza Solangi

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات وپارلیمانی امور مرتضی سولنگی نے کہاہے کہ سٹیل ٹائون میں علمااور موذن حضرات کو سٹیل انتظامیہ کے فنڈزسے 4 ماہ کی رکی ہوئی تنخواہ کی ادائیگی ہو گئی ہے، فنڈزکی کمی کےباعث آئندہ سٹیل ٹائون میں مقیم افراد سے وصولی کر کے تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے گی۔

منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں انہوں نے ایوان کو بتایا کہ سٹیل ٹاؤن مسجد کمیٹی نے 37 علماء اور موذن مقرر کئےتھے جن کی تنخواہ پاکستان سٹیل کے ملازمین کے فنڈز سے لے کر دی جاتی تھی لیکن 2021ء سے سٹیل مل کے ملازمین کو فارغ کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا اس کی وجہ سے ملازمین کی تعداد 8600 سےکم ہو کر3 ہزار رہ گئی جس کی وجہ سے فنڈز بھی کم ہو گئے ۔

اب سٹیل مل کے ملازمین سے جو فنڈز اکٹھےکئے جاتے ہیں وہ ایک لاکھ 34 ہزار روپے ہیں جن میں سے 37 علماء اور مؤذن حضرات کی تنخواہ دینا ممکن نہیں ہے، اس لیے 32 علماء اور موذن حضرات کا کنٹریکٹ بڑھایا نہیں جا سکا۔ سٹیل مل انتظامیہ نے سٹیل ٹاؤن میں مقیم افراد سے 250 روپے فی گھر لینے کا فیصلہ کیا ہے جیسے ہی یہ فنڈز اکٹھے ہوں گے ۔32 علماء اور مؤذن حضرات کو ادائیگی یقینی بنائی جائے گی تاہم پچھلے چار ماہ سے ان کی رکی ہوئی تنخواہ سٹیل مل انتظامیہ نے اپنے فنڈ زسے ادا کر دی ہے۔