سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز کے زیراہتمام ’’سماجی شمولیت کیلئے وفاقی و صوبائی اداروں کے ساتھ سی ایس اوز کے اشتراک‘‘پر سیمینار کا انعقاد

مانسہرہ

اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز (سی پی ڈی آئی ) کے زیر اہتمام بدھ کو یہاں ’’سماجی شمولیت کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ سی ایس اوز کے اشتراک‘‘ پر ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا ،جس کا مقصد وفاقی ،صوبائی اداروں اور سماجی تنظیموں کے مابین باہمی تعاون اور موثر مکالمے کا فروغ تھا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختاراحمد علی نے ترقی کے فروغ میں طرز حکمرانی کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینے میں معلومات تک رسائی کے قوانین کے بھرپور استعمال پر زور دیا۔

مزید برآں انہوں نے انفارمیشن کمیشنز کے قیام سے آنیوالے مثبت اثرات پر روشنی ڈالی جو اہم ترین معلومات کی فراہمی کے عمل میں سہولت کاری کا باعث بنتے ہیں۔سی پی ڈی آئی کے آرٹی آئی مشیر زاہد عبداللہ نے ’’قومی اعدادوشمار میں معذور خواتین اور معذور ی کے نشان زدہ شناختی کارڈ میں صنفی تفاوت‘‘ جیسے اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی۔ایروزینا یونیورسٹی کے ممتاز ریسرچ فیلو عاقل سجاد نے مقامی حکومت کے اہم کردار پر زور دیا اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر انکی اہمیت کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانی کو بہتر کرنے میں مقامی حکومتیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں اور مستند جمہوری عمل میں شہریوں کی مشاورت ناگزیر ہے جو مقامی قیادت کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔ چیف انفارمیشن کمشنر پاکستان شعیب صدیق نے آر ٹی آئی ایکٹ 2017 کی پیشرفت کے بارے میں بتایا اور معلومات تک رسائی کے اپنے حق کو استعمال کرنے کے لیے سی پی ڈی آئی اوردیگر سی ایس اوز کی کاوشوں کی تعریف کی ۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کی معلومات تک رسائی میں آرٹی آئی قوانین کے اثر انداز ہونے پر تحقیقاتی مطالعے کیے جائیں کیونکہ اعدادوشمار پر مبنی تحقیقاتی رپورٹس کے ذریعے ہی ہم شفافیت کے اقدامات کو بہتر بناپر شہریوں کو بااختیار بنا سکتے ہیں۔پنجاب کمیشن برائے وقار نسواں (پی سی ایس ڈبلیو ) کے قانونی مشیر عمران جاوید قریشی نے صنفی مساوات کے لیے حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لینے میں صوبائی کمیشن کے کردار پر زور دیا اور کمیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات بارے آگاہ کیا۔

سی پی ڈی آئی کی ریحانہ شیخ نےمعاشی تحفظ کی مختلف سرکاری و غیر سرکاری سکیموں تک رسائی اور ہنر مندی کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر ) کے نمائندہ منظور مسیح نے شرکاء کو کمیشن کے ڈھانچے اور اس کے کردار کے بارے میں تفصیل سے آگا ہ کیا۔

قبل از یں پراجیکٹ منیجر سی پی ڈی آئی ثروت جہاں نے  پراجیکٹ کے اہم مقاصد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی شمولیت کے ذریعےہم معاشرے کے محروم طبقات کی بہتری کیلئے کام کر سکتے ہیں، خصوصاً معذور افراد کی فلاح و بہبود کیلئے ہماری سی ایس اوز کی کاوشیں قابل ستائش ہیں تاہم ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر پنجاب اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی مختلف سماجی تنظیموں ،یونیورسٹیز اور شہریوں کے مختلف گروپس کے نمائندگان بھی موجود تھے۔