شہریوں کو آئین و قانون کے تحت دستیاب سہولیات سے روگردانی نہیں ، لاپتہ افراد کے مسئلہ کا سیاسی حل بھی نکالناہو گا، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔23اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، گزشتہ چار دہائیوں سے ملک نے مشکلات کاسامناکیا، لاپتہ افرادکا معاملہ اتناآسان نہیں ، اس کی بہت ساری جہتیں ہیں، اس مسئلہ کے قانونی حل کے ساتھ ساتھ تمام شراکت داروں کو بٹھا کر ایک سیاسی حل بھی نکالناہو گا، پاکستان کاآئین و قانون شہریوں کو جو سہولیات دیتا ہے ان سے کوئی روگردانی نہیں ہے اور ہونی بھی نہیں چاہیے کیونکہ یہ ان کا حق ہے،

لاپتہ افراد کےحوالے سے حکومت ماضی میں کام کیا اور ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ، دہشت گردی کاشکار ہونےوالے شہدا کے لواحقین کے بھی تحفظات ہیں، لاپتہ افراد کے8 ہزار کے قریب کیسز حل ہو چکےہیں، لاپتہ افراد کامسئلہ حل کرنے میں حکومت کی سنجیدگی میں کوئی کمی نہیں آئی، سوشل میڈیا، بحث ، جلد بازی ، عدالتی احکامات سےیہ مسئلہ راتوں رات حل نہیں ہو سکتا، اس پر اب بھی بہت کام کی ضرورت ہے، تمام شراکت داروں کی مشاورت سے اس اہم مسئلہ کو حل کیاجائےگا۔

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے مسنگ پرسنز کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ مسئلہ بڑے عرصہ سے سیاسی ، قانون اور عسکری حلقوں میں ایک حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور اس پر بات چیت ، تنقید کی جاتی ہے اور اس پر آوازبھی اٹھائی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین اور قانونی نظا م میں بنیادی حقوق کے حوالہ سے جو تحفظ حاصل ہے، بلا شبہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کاپورا احساس ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم اس ایشو کی بات کرتے ہیں تو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بدقسمتی سے گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان نے جنگ سے متاثرہ خطے میں فرنٹ سے کردار ادا کیا ہے۔ ہماری جغرافیائی صورتحال ایسی ہے اورہمارے ہمسایہ ممالک کے ساتھ گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں جو معاملات ہوئے جس کی وجہ سے پاکستان کے اندرونی چیلنجز بہت بڑھ گئے۔ وزیر قانون نے کہا کہ دہشتگردی کے حوالہ سے افواج پاکستان نے اور پاکستان کے عوام نے جو قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پاکستان نے ناقابل یقین حد تک اس کی قیمت ادا کی ہے۔ یہ مسئلہ بھی دہشت گردی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کئی مرتبہ یہ بات کی جاتی ہےکہ شائد حکومتیں سنجیدہ نہیں ہیں یا سیاسی سنجیدہ نہیں ہے، اس لئے یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے آج بات کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو یاد ہو گا کہ مسنگ پرسنز پر پہلا قدم پاکستان پیپلز پارٹی دور حکومت میں 2011 میں اٹھایا گیا۔ پھر سپریم کورٹ نے اس خود نوٹس کے اختیار کے تحت سپریم کورٹ نے اس پر نوٹس لیا اور وہاں پر کمیشن بنایا گیا جس کے بعد کمیشن نے اپنا کام شروع کیا اور اس وقت سے لے کر آج تک تقریباً 10ہزار 200 سے زائد مسنگ پرسنز کے کیسز کمیشن میں گئے جن میں سے 8 ہزار کے قریب کیسز حل طلب تھے اور حل ہوئے تاہم اب بھی زیر التوا کیسز کی شرح اندازاً23 فیصد کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں 2022 میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت بنی تو وزیراعظم نے کابینہ میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں حکومت میں شریک تمام اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی اور میں اس شریک تمام اتحادی کمیٹی کاکنوینر تھا۔کمیٹی میں اس وقت کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان ،شازیہ مری، ایم کیو ایم ، جے یو آئی، بلوچ سیاسی جماعتوں کی بھی نمائندگی تھی۔ بی این پی سے آغا خان، باپ پارٹی سے ترین صاحب بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئٹہ جا کر کام کیا ،سارے شراکتداروں سے ملے ، بعض چیزیں ابھی حل طلب تھیں کہ اسمبلی کی مدت پوری ہو گئی۔ وزیرقانون نے مزید کہا کہ نگران حکومت کے دور میں بھی میں نے رپورٹ منگوائی ، تاہم نگران حکومت کا دائرہ اختیار کسی حد تک محدود ہوتا ہے کیونکہ وہ قانون سازی نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر بہت سی ایسی چیزیں بھی تھیں جو نگران نہیں کر سکتے تھے جس کی وجہ سے کچھ تعطل آیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف کی ہدایت پر اب دوبارہ اس پر کام شرو ع کیا جا رہا ہے اور وزیراعظم کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جس میں پارلیمانی نمائندگی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کام دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔ وزیر قانون نے کہا کہ مسنگ پرسنز کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حکومت کی سنجیدگی میں کوئی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ جلد بازی یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کی جانے والی باتوں یا عدالتی احکامات سے راتوں رات حل نہیں ہوسکتا، اس کے لئے ابھی بھی بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف سے کچھ نہ کچھ ایشوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کی مداخلت یکسر مسترد نہیں کا جا سکتی لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ کیاآج تک کوئی ٹھوس شہادت آئی۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک میں رپورٹ میں دیکھتا رہا تو اداروں کی مداخلت کا امکان نفی میں تھا۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ایک تاثر ضرور ہے۔ وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ کیا رپورٹس 100 فیصد درست ہوتی ہیں؟ اس میں بھی ملی جلی صورتحال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد حقیقت میں لاپتہ ہوتاہے لیکن بعض کیسز میں ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ وہ افراد جن کو بطور مسنگ پرسن رجسٹرڈ کیا گیا تھااور کمیشن ان کو بطور لاپتہ افراد ڈکلیئر بھی کر چکا تھا اور کوئی ایسی ایف آئی آر بھی درج ہو چکی تھی کہ اس کو فلاں ادارے کے لوگ اسے اٹھا لے گئے ہیں۔

وزیرقانون نے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ انکشاف سامنے آیاکہ مسنگ پرسنز میں شامل دو افراد میں سے ایک لانڈی جیل میں منشیات کے کیس میں اپنی سزا پوری کررہا تھا اور دوسرا سندھ کی کسی جیل میں تھا۔ اسی طرح پنجاب سے بھی ایسی رپورٹس وصول ہوئیں کہ سی ٹی ڈی نے ان کو پراسکیوٹ کرنا تھا اور ان کے سرگودھا میں ٹرائلز ہو رہے تھے۔ وزیرقانون نے کہا کہ ماضی قریب میں گوادر میں جو حملہ کیاگیا جب حملہ آواران کی شناخت کی گئی تو ان میں بھی لاپتہ افراد موجود تھے جو باقاعدہ ڈکلیئرڈ مسنگ پرسن تھے۔

ان کے ورثا نے یہ درخواست دی کہ ان کی لاش ہمارے حوالے کی جائے تاکہ تدفین کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں اس کی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے قانونی حل کے ساتھ ساتھ تمام شراکتداروں کو بٹھا کر ایک سیاسی حل بھی نکالنا ہوگا۔ وزیرقانون نے کہاکہ پاکستان کے شہریوں کو جو سہولیات آئین وقانون مہیا کرتاہے ان سے کوئی روگردانی نہیں ہے اور ہونی بھی نہیں چاہیے کیونکہ وہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بندہ کسی کریمینل جرم میں ملوث ہے تو اس کو قانون کے تحت پراسکیوٹ ہونا چاہیے۔ وزیرقانون نے کہا یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اس قدر تکلیفیں اٹھائی ہیں، قیمت اداکی ہے ، قربانیاں دی ہیں، شہادتیں ہوئی ہیں، ہمارے بچے ، نوجوان ، بڑے اور بزرگ شہریوں نے اپنی جانیں گوائی ہیں۔ اسی طرح دھماکوں میں بھی بہت سی جانیں گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیااور شہادت کارتبہ پایا ، ان تمام چیزوں کو بیلنس کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دو تین دن سے یہ گفتگو چل رہی تھی اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس پرمیڈیا سے بات کی جائے۔ وزیرقانون نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں بھی پہنچنا تھا لیکن یہ ضروری سمجھا کہ وزیراطلاعات و نشریات لاپتہ افراد کے ایشو پر آج میڈیاٹاک کریں گے تو ان کےساتھ پریس کانفرنس سے قبل ابتدائیہ میں آپ کو تفصیلات سے آگاہ کروں کیونکہ میں نے بطور کمیٹی کنوینر کام کیاہے اور کمیٹی اپنا کام دوبارہ بھی شروع کر رہی ہے۔