صاف پانی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے آر او پلانٹ لگانا کراچی کی ضرورت ہے، بیرسٹر مرتضی وہاب

بلدیہ عظمی کراچی دل کے دورے اور انجریز کی صورت میں فوری ہنگامی امداد مہیا کرنے کے لئے شہریوں کو تربیت دے گی، میئر کراچی

کراچی۔ 01 نومبر (اے پی پی):میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی ورلڈ بینک کے ساتھ شہر کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے کے لیے تیا رہے، ورلڈ بینک کی سرمایہ کاری اور دیگر معاملات کی منظوری سٹی کونسل سے لے کر قانونی تحفظ دیا جائے گا، صاف پانی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے آر او پلانٹ لگانا کراچی کی ضرورت ہے، شہر کے ہر وارڈ میں ایک آر او پلانٹ لگا کربڑی حد تک پانی کی کمی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اپنے دفتر میں ورلڈ بینک کے تین رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر کے ایم سی کونسل کے پارلیمانی لیڈر نجمی عالم بھی موجود تھے۔ وفد کے سربراہ پریکٹس منیجر ورلڈ بینک اربن اینڈ لینڈ برائے جنوبی ایشیا Abedalrazq Khalil نے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے معلومات حاصل کیں اور ان منصوبوں میں ورلڈ بینک کی طرف سے سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

میئر کراچی نے ورلڈ بینک کے وفد کو کراچی میں بلدیاتی نظام کے ڈھانچے اور شہری امور کی انجام دہی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہو ں نے کہا کہ موجودہ بلدیاتی نظام کے تحت کراچی میں 246یونین کمیٹیز اور ایک ہزار وارڈز قائم کئے گئے ہیں،بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل میں ہر یوسی چیئرمین اپنے علاقے کی نمائندگی کرتا ہے اور نچلی سطح پر یہی یوسی چیئرمینز اور کونسلرز عوام سے براہ راست رابطے میں رہتے ہیں اور ان کے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بلدیاتی انتظامیہ کو پانی و سیوریج سے متعلق بڑے چیلنجز کا سامنا ہے پانی کی کمی کے مسائل حل کرنے کے لیے آر او پلانٹ بہترین راستہ ہے، آر او پلانٹ لگانے سے شہریوں کو صاف پانی میسر آئے گا اور فراہمی آب کے نظام پر اس کے بہترین اثرات مرتب ہونگے۔ خاص طور پر کراچی کی کچی آبادیوں کے مکینوں کو آر او پلانٹ لگنے سے بہت سہولت ملے گی۔

میئر کراچی نے کہا کہ حکومت سندھ 75فیصد فنڈز ٹانز کو جبکہ 25 فیصد فنڈز بلدیہ عظمی کراچی کو فراہم کرتی ہے جس سے شہر میں بلدیاتی امور انجام دیئے جاتے ہیں، کراچی کے مختلف ٹانز کے ریونیو اور آمدنی میں نمایاں فرق ہے صدر ٹان کے مقابلے میں لیاری ٹان کی آمدنی انتہائی کم ہے لہذا ٹانز کی حدود میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہئے، یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پراپرٹی ٹیکس سمیت متعدد محصولات ٹانز وصول کرتے ہیں جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات کی فراہمی بلدیہ عظمی کراچی کی ذمہ داری ہے،

ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ تمام شہری ادارے بنیادی بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں اور مل کر شہریوں کی خدمت کی جائے، ورلڈ بینک کے وفد نے کراچی جیسے بڑے شہر میں بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کے عمل کو مزید موثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس حوالے سے بلدیہ عظمی کراچی کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر کراچی اور دنیا کے دیگر بڑے اور تجارتی ساحلی شہروں کی ضروریات پر بھی روشنی ڈالی گئی اور اس سلسلے میں ورلڈ بینک کی اسٹڈی اور منصوبوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ کراچی کی بہتری کے لیے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں میں ورلڈ بینک سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کے تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں، ماضی میں جتنا کام ہوا ہے اس کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کے لیے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے تاکہ کراچی کے شہریوں کو دنیا کے دیگر بڑے اور جدید شہروں کے متوازی سہولیات میسر آسکیں اور بنیادی شہری مسائل جامع منصوبے کے ذریعے جلد از جلد حل ہوں۔