صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے چائنہ انرجی انٹرنیشنل گروپ کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر لیو شیو فینگ کی ملاقات

خواتین کو فیصل مسجدکے مرکزی ہال میں مخصوص جگہ پر نماز ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، صدر ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری اور توانائی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے میں تعاون سے ایٹمی، ہائیڈل، سولر اور ونڈ انرجی پر مشتمل پاکستان کے انرجی مکس کو متنوع بنانے کی صلاحیت کو فروغ اور ملک کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد مل رہی ہے، ہمیں کوئلے اور تیل پر مبنی توانائی کے ذرائع سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لئے موثر اور اہم ٹیکنالوجی کے استعمال کے علاوہ شمسی اور ہوا جیسے متبادل اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر توجہ دینی چاہیے۔

صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار چائنہ انرجی انٹرنیشنل گروپ کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر لیو شیو فینگ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے اپنے وفد کے ہمراہ جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران صدر کو نیلم جہلم، داسو، سوکی کناری، آزاد پتن اور مہمند ہائیڈرو پاور پراجیکٹس اور کراچی کے۔ٹو/کے۔تھری، بھکی کمبائنڈ سائیکل پاور پراجیکٹ، جھم پیر ونڈ پاور پراجیکٹس اور ایم ۔4 موٹر وے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی قیادت اور عوام کے درمیان گرمجوشی کے تعلقات پاک چین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی بنیاد ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ سی پیک ایک کثیر جہتی منصوبہ ہے، جو ملک کو اپنی سڑکوں، بندرگاہوں اور مواصلاتی نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے علاوہ ملک میں صنعت کاری کو فروغ دینے اور توانائی اور بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں پر ہموار اور تیزی سے عملدرآمد ایک مقررہ مدت میں اس کی مکمل صلاحیتوں کے حصول کو یقینی بنائے گا۔

صدر مملکت نے حالیہ تباہ کن سیلاب کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے پر چینی حکومت اور چینی عوام کا بھی شکریہ ادا کیا اور چائنا انرجی انٹرنیشنل گروپ کی طرف سے سیلاب متاثرین کی بحالی میں تعاون کرنے کے اقدامات کو سراہا۔ صدر نے بجلی اور مواصلات سے متعلق مختلف منصوبوں کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے شمسی توانائی پر مبنی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے اور شروع کرنے کے لئے چائنہ انرجی کے اقدام کو بھی سراہا۔

صدر کو بریفنگ دیتے ہوئے چائنہ انرجی انٹرنیشنل گروپ کے جنرل منیجر لیو شیوفینگ نے کہا کہ چائنہ انرجی پاکستان میں 1990 کی دہائی سے موجود ہے اور وہ پاکستان میں 12 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے ساتھ 21 میگا پراجیکٹس میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چائنہ انرجی نے آزاد پتن 700.7 میگاواٹ اور سوکی کناری 870 میگاواٹ کے دو منصوبوں میں 3.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی توانائی کے استحکام، نقل و حمل کے رابطوں اور پاکستان کے عوام کی سماجی خوشحالی کے لیے بھی بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہے۔