صدر مملکت کی بینک فراڈ سےمتاثرہ شہری کو رقم واپس کرنے کی ہدایت ، بینک کی اپیل کو مسترد کردیا

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اَپاسٹِل آرڈیننس 2024 ء جاری کر دیا

اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بینک فراڈ سے متاثرہ شہری کو 344,600 روپے واپس کرنے کی ہدایت کر دی۔اس حوالے سے انہوں نے بینکنگ محتسب کا حکم برقرار رکھتے ہوئے الائیڈ بینک کی اپیل کو مسترد کردیا ہے ۔ بدھ کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ الائیڈ بینک کے صارف کے اکاؤنٹ سے 344,602 روپے دھوکہ دہی سے نکالے گئے، بینک نے صارف کی رضامندی کے بغیر فنڈ منتقلی سہولت کھول کر بدانتظامی کا ارتکاب کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ بلااجازت آن لائن فنڈ ٹرانسفر سہولت کھولنے کی وجہ سے صارف کو نقصان اٹھانا پڑا۔

صدر مملکت نے بینکنگ محتسب کے فیصلے کے خلاف الائیڈ بینک کی دائر کردہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بینک قانونی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا، بلااجازت انٹرنیٹ بینکنگ چینل کھول بے ضابطگی اور عدم تعمیل کا ارتکاب کیا۔انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ کو بینک ہیلپ لائن سے ملتے جلتے نمبر سے فون کال موصول ہوئی اور کال کے بعد اکاؤنٹ سے 344,602 روپے کی رقم منتقل کی گئی۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ صارف نے ماضی میں آن لائن چینلز کے ذریعے کوئی لین دین نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق امیر علی وسان نے فراڈ کے فوری بعد شکایت درج کروائی تاہم شکایت حل نہ ہوئی جس پر صارف نے کھوئی ہوئی رقم کی واپسی کے لیے بینکنگ محتسب سے رجوع کیا۔ محتسب نے بینک کو رقم واپس کرنے کی ہدایت کی مگر بینک نے فیصلے کے خلاف صدر کو اپیل دائر کردی۔

صدر مملکت نے کیس کی ذاتی طور پر سماعت کی اور بینک کی اپیل کو مسترد کردیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ بینک ادائیگی کے نظام اور الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر ایکٹ 2007 کے سیکشن 41 کے مطابق متنازعہ لین دین کی قانونی حیثیت ثابت کرنے میں ناکام رہا، رقم کی قسطوں میں منتقلی ایک ہی تاریخ پر بہت ہی مختصر وقت میں ایک ہی طرز پر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رقم منتقلی پر بینک سسٹم الرٹ ہونا چاہیے تھا، کم از کم صارف کو کال جانی چاہیے تھی۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس تشویشناک امر پر بینکوں اور سٹیٹ بینک کو توجہ دینی چاہیے،

شہری ڈیجیٹل بینکنگ ، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بینکنگ مصنوعات سے واقف نہیں۔ صدر نے کہا کہ بینک آن لائن چینلز کے حوالے سے قوانین اور سٹیٹ بینک کی ہدایات کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ صدر مملکت نے بینک کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ 30 دنوں کے اندر بینکنگ محتسب کو تعمیل کی رپورٹ جمع کرائیں۔