عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے، ماحول دوست شراکت داری کو فروغ دینے اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، وزیر خارجہ کا تیسرے انڈو پیسفک وزارتی فورم سے خطاب

Foreign Minister
Foreign Minister

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے، ماحول دوست شراکت داری کو فروغ دینے اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے یورپ اور اس کے شراکت داروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دفتر خارجہ کی طرف سے ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے برسلز میں یورپی یونین کے تیسرے انڈو پیسفک وزارتی فورم میں یورپی یونین کے اعلی نمائندے/ نائب صدر برائے امور خارجہ اور سلامتی پالیسی جوزف بوریل کی دعوت پر شرکت اور گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

گول میز مباحثے کا موضوع ”مشترکہ خوشحالی، اقتصادی لچک اور سرمایہ کاری” تھا۔ وزیر خارجہ نے یورپ اور اس کے شراکت داروں کے درمیان عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے، ماحول دوست شراکت داری کو فروغ دینے اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تکنیکی تبدیلی کی تیز رفتار ی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے پائیدار ترقی کے لئے ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ رسک ریگولیشن کو متوازن کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ تفرقہ انگیز جغرافیائی سیاسی مسابقت کی مخالفت کی جائے جو عالمی اور علاقائی تنائو کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری پر پابندیاں اور تحفظ پسندی کی نئی شکلیں مشترکہ خوشحالی، پائیداری اور شمولیت کے مقاصد کے منافی ہیں۔ وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے رابطے اور علاقائی اقتصادی انضمام کے حوالے سے پاکستان کے وژن پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان کی خصوصی سرمایہ کار سہولتی کونسل کو زراعت، کان کنی، توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اہم شعبوں میں منافع بخش منصوبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی تیز رفتار، سنگل ونڈو سہولت کاری کے تجدید وعدے کے طور پر متعارف کرایا۔

انڈو پیسیفک وزارتی فورم کے موقع پر وزیر خارجہ نے اعلیٰ نمائندے جوزف بوریل، بیلجیئم کے وزیر خارجہ حدیجا لاہبیب، ہسپانوی وزیر خارجہ جوز مینوئل البرس، بیونس آسٹریا کے وزیر خارجہ الیگزینڈر شیلنبرگ سے ملاقاتیں کیں۔ وزیر خارجہ نے یورپی یونین کے سینئر حکام سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں کمشنر برائے موسمیاتی ایکشن ووپکے ہوکسٹرا، یورپی یونین کی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے سیکرٹری جنرل اسٹیفانو سانینو یورپی یونین سے باہر مذہب یا عقیدے کی آزادی کے فروغ کے لئے خصوصی ایلچی، فرانس وان ڈیلے اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی ٹامس نکلسن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات کے لئے یورپی پارلیمنٹ کے وفد کے چیئرمین ایم ای پی نکولا پروکاچینی سے بھی ملاقات کی۔