عمران خان اگر اداروں کو چوکیدار کہہ رہے ہیں تو ادارے قومی دفاع اور قومی سلامتی کے محافظ ہیں، ان کی کرسی اور اقتدار کے نہیں، مریم اورنگزیب

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان اگر اداروں کو چوکیدار کہہ رہے ہیں تو ادارے قومی دفاع اور قومی سلامتی کے محافظ ہیں، آپ کے اقتدار اور کرسی کے نہیں، عمران خان کی پوری سیاست بیساکھیوں پر مبنی ہے، آج وہ بیساکھیوں کی تلاش میں پھڑ پھڑا رہے ہیں لیکن کہیں سے بیساکھیاں آ نہیں رہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے حلف کی خلاف ورزی کر کے ان کے کھیل کا حصہ بنیں، قوم فارن ایجنٹ، سازشی، قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے، آئین شکن، جھوٹے اور نااہل شخص کو کبھی معاف نہیں کرے گی، عمران خان جیسے شخص کو نشان عبرت بنانا چاہئے تاکہ کوئی قومی مفاد اور ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ نہ کر سکے۔

پیر کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سیلاب کے حوالے سے ریکارڈ کام کیا، جب سیلاب آیا تو اس کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کرنا مشکل نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج، صوبائی حکومتوں، این ڈی ایم اے، سول سوسائٹی سمیت دوست ممالک نے سیلاب کی صورتحال میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کےحالیہ دورہ کے دوران بھی تمام تر توجہ سیلاب پر مرکوز رہی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر سیلاب متاثرہ علاقوں میں مشترکہ سرویز شروع ہو گئے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف ملک کا وزیراعظم اس وقت سیلاب زدگان کیلئے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں میں دن رات مصروف ہے جبکہ دوسری طرف ایک شخص جو اس ملک میں چار سال تک وزارت عظمیٰ کی کرسی پر مسلط رہا، اس کی آڈیو لیکس سامنے آ رہی ہیں جو ملکی سلامتی کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پہلی آڈیو لیک 28 ستمبر کو سامنے آئی، سابق وزیراعظم اپنی کرسی جانے کے خوف میں مبتلا تھے، انہوں نے 27 مارچ کو جلسہ میں ایک کاغذ لہرایا، ان کی بیرونی سازش کا پورا کھیل بے نقاب ہو گیا ہے۔ اس آڈیو لیک میں سابق وزیراعظم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اس سائفر کے ساتھ کھیلنا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 7 مارچ کو سائفر آیا جو 8 مارچ کو فارن آفس کو موصول ہوا، 9 مارچ کو اس سائفر کی کاپی وزیراعظم ہائوس میں منگوائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک میں عمران خان نے کہا کہ اس پر تاریخ پہلے کی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 7 مارچ کو موصول ہونے والے سائفر کا عمران خان نے اس وقت قوم کو کیوں نہیں بتایا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی تھی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے 27 مارچ کو یہ کاغذ اس لئے لہرایا کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو رہی تھی اور ان کے اتحادی انہیں چھوڑ کر جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان چور، کرپٹ اور نااہل تھے، انہوں نے ملکی معیشت تباہ کی، کشمیر کا سودا کیا، ملک میں افراتفری پیدا کی جس کی وجہ سے ان کے اتحادی بھی انہیں چھوڑ گئے۔

انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اس سائفر کے ساتھ کھیلنا ہے اور امریکہ کا نام نہیں لینا، عمران خان نے اس سائفر کے منٹس بدلے، اس میں سازش کا لفظ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک میں عمران خان کا پورا بیانیہ بے نقاب ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی 30 ستمبر کو ایک اور آڈیو لیک آئی جس میں میٹنگ بلانے کا ذکر کیا گیا، اس آڈیو لیک میں وزیر خارجہ، سیکریٹری خارجہ اور تین چار وزراء کو بلانے کی بات کی گئی اور اس سائفر کے منٹس کی تیاری کا ذکر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 30 ستمبر والی آڈیو لیک میں کہا گیا کہ اس سائفر کو خط کہا جائے گا، آڈیو لیک میں حقیقی آزادی والے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے امریکہ کا نام نہیں لینا، عمران خان آڈیو لیک میں بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہمارے منہ سے امریکہ کا نام نہ نکلے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر ان کی بات مان لی جائے کہ 7 مارچ کو ان کے پاس سائفر آیا جو ملک کے خلاف سازش تھی تو پھر نام کیوں نہیں لینا، عمران خان کو پتہ تھا کہ وہ ملکی مفادات، قومی سلامتی اور ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، عمران خان نے ملک اور عوام کو گمراہ کیا، قومی سلامتی اور قومی مفادات کے ساتھ کھیل کھیلا، ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش کی، عمران خان نے کھیل کھیل میں پارلیمان اور آئین کو توڑا، انہیں شرم تک نہیں آئی کہ انہوں نے اپنی سیاست اور کرسی کی خاطر ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا اور اپنے ذاتی مفاد کے لئے آئینی عہدوں سے آئین شکنی کروائی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پوری سیاست بیساکھیوں پر مبنی ہے، عمران خان نے اپنی سیاست خیرات کے پیسے سے کی، یہ دوسروں کے سہارے پر سیاست میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان آج کیوں ڈر رہے ہیں، آج جب انہیں اپنے بل بوتے پر سیاست کرنی پڑ رہی ہے تو وہ دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چار سال تک اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں رکھا، عدالتوں میں ان کے خلاف جعلی ریفرنس دائر کئے، پوری ریاستی طاقت استعمال کی، نیب نیازی گٹھ جوڑ بنا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قومی سلامتی کے حساس معاملے کو سیاست کی نظر کیا، یہ قومی سلامتی اور آئین و قانون کا معاملہ ہے، سائفر کو سیاست کی نظر عمران خان نے کیا ہے، عمران خان کی آڈیو لیکس کے حوالے سے کابینہ میں تفصیلی بریفنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سیکریسی ایکٹ کے تحت سائفر پبلک نہیں ہو سکتا، عمران خان نے اس سائفر کو منٹس میں تبدیل کر کے کھیل کھیلنے کا تماشا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی دونوں آڈیو لیکس کی تردید نہیں کی، وہ اعتراف جرم کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا، طیبہ گل کی ویڈیو استعمال کی، نیب کے چیئرمین کو بلیک میل کر کے نیب نیازی گٹھ جوڑ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف ثبوت موجود ہیں، کابینہ نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور ایک سب کمیٹی تشکیل دی، اس سب کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ کریمنل انوسٹی گیشن کےزمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی بھرپور تحقیقات کر کے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کی آڈیو لیک اس وقت کی ہے جب وہ وزیراعظم کی کرسی پر براجمان تھے، عمران خان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس طرح کے کھیل سے بیرون ملک تعلقات، فارن پالیسی، ملکی سلامتی اور ملکی معاملات پر گہرا اثر پڑتا ہے، آج عمران خان کے اس کھیل کے نقصانات پاکستان بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے دوسرے ممالک بات کرتے ہوئے دس مرتبہ سوچتے ہیں۔

اس موقع پر پریس کانفرنس میں عمران خان کے اے آر وائی ٹی وی چینل پر انٹرویو کی ویڈیو بھی چلائی گئی جس میں اینکر پرسن سابق وزیراعظم سے سوال کر رہی ہیں کہ لیٹر کی کاپی کہاں ہے جس پر عمران خان کہتے ہیں کہ وہ گم ہو گیا ہے، اس کی ایک کاپی ان کے پاس تھی لیکن اب وہ غائب ہو گئی ہے، نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کے پاس سائفر کی کاپی تھی جس کے بارے میں وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ غائب ہو گئی ہے، یہ وہ دستاویز ہے جس پر کھیل کھیلا گیا، آئین توڑا گیا، پارلیمان توڑی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ کاپی وزیراعظم ہائوس میں منگوائی اور اپنے ساتھ لے کر گئے اور آج کہہ رہے ہیں کہ مجھے نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو غدار نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے، عمران خان نے یہ جرم کیا ہے جس کا وہ خود مان رہے ہیں کہ ان سے کاپی گم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملک کا تماشا بنا دیا ہے، انہوں نے عوام کو بے وقوف بنایا، مدینہ کی ریاست اور امر بالمعروف جیسے پاک نام کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کیا، جب سب کچھ عمران خان کے ہاتھ سے نکل گیا تو انہوں نے اس سائفر کو امریکی سازش کا نام دے کر عوام کو گمراہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پارلیمان سے باہر پھینکا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کس کو ایکس وائی زیڈ اور چوکیدار کہہ رہے ہیں؟ عمران خان اگر اداروں کو چوکیدار کہہ رہے ہیں تو عمران خان صاحب ادارے قومی دفاع اور قومی سلامتی کے محافظ ہیں، آپ کی کرسی اور اقتدار کے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے حلف کی خلاف ورزی کر کے ان کے اس کھیل کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ قوم چوکیداروں کو معاف نہیں کرے گی، عمران خان صاحب ! قوم فارن ایجنٹ، سازشی، قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے، آئین شکن، جھوٹے اور نااہل شخص کو معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان روز کھڑے ہو کر اداروں کو دھمکیاں دیتے ہیں، جج حضرات پر آوازیں کستے ہیں اور پھر معافیاں مانگتے ہیں، بند کمروں میں پائوں پکڑتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان ایک ہارے ہوئے اور جھوٹے شخص ہیں۔ عمران خان نے چار سال تک طیبہ گل کی ویڈیو پر نیب چیئرمین کو بلیک میل کر کے سیاسی مخالفین کے خلاف کیسز بنائے، ہائی کورٹ کے اندر تمام سماعتوں میں، میں خود موجود تھی، جب نیب سے پوچھا جا رہا تھا کہ کوئی ایک کاغذ دکھائو جس سے نواز شریف کی کرپشن یا ایون فیلڈ کے فلیٹس سے لنک ثابت ہوتا ہو، نیب نے کہا کہ آج کے لئے اتنا کافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چھ سال تک اپنے حواریوں سے مل کر نواز شریف کو بدنام کیا، نواز شریف نے کبھی یہ نہیں کہا کہ آگ لگا دو، قومی رازوں سے کھیلو، جو چور ہوتا ہے وہ عمران خان کی طرح عدالتوں سے بھاگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ان چھ سالوں کا جواب لینا باقی ہے جس میں انہوں نے ناقابل تلافی نقصان پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ جو لیڈر ملک سے بھاگتے ہیں وہ اپنی بیٹیوں کا ہاتھ پکڑ کے احتساب کے لئے واپس نہیں آتے، جج ارشد ملک کی آڈیو اور ویڈیو بھی سب کے سامنے ہے کہ نواز شریف کے خلاف کیسز جھوٹے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے خلاف تمام کیسز کا سامنا کیا۔ نواز شریف نے تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے ملک و قوم کی خدمت کی، وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کے اپنے خلاف کیسز کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان واپس آئے تھے، آج کوئی شخص عمران خان کے بدبودار اور جعلی احتساب سے سرخرو ہوا ہے تو اس کا نام نواز شریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے چار سالوں میں مریم نواز کو دو مرتبہ گرفتار کروایا، جب ان کے خلاف کچھ نہ ملا تو انہیں رمضان شوگر مل کیس میں گرفتار کروایا، مریم نواز کا پاسپورٹ ضبط کیا گیا جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چار سال جو کرنا تھا کرلیا، اب وہ عوام کو بے وقوف نہ بنائیں، حقیقت یہ ہے کہ کبھی کسی قسم کی چوری ہوئی نہ کک بیکس، نہ کرپشن اور نہ اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی طرح طیبہ گل کی ویڈیو لے کر چیئرمین نیب کو بلیک میل کر کے سیاسی مخالفین کے خلاف کیسز ہم بھی بنا سکتے تھے۔ ہم نے سیاسی انتقام لینا ہوتا تو ہم کب کے لے چکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی آڈیو لیکس سب سے بڑا انکشاف ہے، انہوں نے سائفر کے منٹس بدلے، اسی سائفر کی وجہ سے انہوں نے قومی اسمبلی تحلیل کی تھی، ان کو شرم نہیں آتی، یہ جلسوں میں کھڑے ہو کر آوازیں لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک جھوٹے، سازشی، فارن ایجنٹ اور کشمیر فروش شخص کا کوئی ساتھ نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اب علیم خان کے دفتر پر چھاپے مروا رہے ہیں، انہی کے کاروبار سے عمران خان نے کھایا ہوا ہے، کچھ تو شرم کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے محسنوں کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے کرپشن کے نام پر سیاست کی، خیرات کے نام پر سیاست کی، جھوٹ کے بل بوتے پر سیاست کی، ملک کے ساتھ سازش اور غدداری کر کے سیاست کی، مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتیں مل کر ان کا یہ کھیل کبھی مکمل نہیں ہونے دیں گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے سائفر کے حوالے سے کہا کہ یہ سیاسی کیس نہیں، کوئی بھی حکومت ہوتی اس کا آئینی فرض ہے کہ وہ اس کیس کی تحقیقات کروائے۔ عمران خان نے ملک کی سالمیت اور آئین کے ساتھ کھیل کھیلا ہے، اس کی تحقیقات کی ذمہ داری ایک آئینی ادارے کو دی گئی ہے، وہ اپنا کام کر رہا ہے۔

ان آڈیو لیکس کی شکل میں جو بھی حقیقت ہوگی کھل کر سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے اپنے خلاف تمام قانونی کیسز کا مقابلہ کیا، آج ان کا پاسپورٹ انہیں واپس مل گیا ہے جو نیب نے چار سال سے ضبط کر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اس خاندان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ نواز شریف اپنی اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر پاکستان واپس آئے تھے اور یہ کہتا ہے کہ نواز شریف بھاگ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اداروں پر بھرپور حملے کئے، سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کے دوران ہیلی کاپٹر کریش ہوا تو انہوں نے اس پر بھی سیاست کی، ان کو شرم آنی چاہئے، عمران خان اور ان کے کھیل کا ڈرامہ عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں، عمران خان کو پتہ ہے کہ انہوں نے جرم کیا ہے، کریمنل انوسٹی گیشن ان کے خلاف جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن کیسز میں ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں، ان کا منطقی انجام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکریسی ایکٹ کے مطابق کریمنل انوسٹی گیشن بنتی ہے، اس کا مینڈیٹ ایف آئی اے کے پاس ہے، عمران خان کی دونوں آڈیو لیکس پر فیصلہ ایف آئی اے کرے گی۔

عمران خان نے خود کہا ہے کہ ان سے سائفر کی کاپی گم ہو گئی ہے، اس پر قانون کے مطابق جو سزا بنتی ہے اس کا تعین اس ادارے کی کمیٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ادارے کی کمیٹی ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا دائرہ کار سکریسی ایکٹ میں موجود ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ممنوعہ فنڈنگ کا کیس آیا تو اسے ہم نے مزید تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کو بھیج دیا ہے۔ اسی طرح توشہ خانہ کا کیس بھی ایف آئی اے میں چل رہا ہے، فرح گوگی اور عمران خان کی اہلیہ کے کیسز کی بھی تحقیقات ہو رہی ہے، قانون کے مطابق اس پر فیصلے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جس طرح ریاستی طاقت اور نیب کو استعمال کر کے سیاسی مخالفین، ان کی بہنوں بیٹیوں کو جیلوں میں ڈالا، اس کا حساب عمران خان کو دینا پڑے گا۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آڈیو لیکس سیاسی معاملہ نہیں، اسے سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں، یہ قومی سلامتی کے معاملات ہیں، اس پر مناسب طریقے سے تحقیقات ہوں گی اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آڈیو میں ایک شخص اعتراف جرم کر رہا ہے کہ سائفر کے ساتھ کھیلنا ہے، دوسری آڈیو لیک میں سائفر کے مندرجات کو منٹس میں تبدیل کرنے کی بات کی گئی۔ اس سائفر کی کاپی وزیراعظم ہائوس میں منگوائی گئی اور اس سیکریٹ ڈاکومنٹ کو غائب کر دیا گیا جس کے بارے میں عمران خان خود کہہ رہا ہے کہ وہ گم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائفر کے حوالے سے پارلیمان میں اجلاس طلب کیا جا رہا ہے، اس پر مکمل بحث ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اس کھیل میں قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی، یہ ایسا شخص ہے جس نے مدینہ کی ریاست کے نام پر کھیل کھیلا، سیاست کی خاطر قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کیا، اس شخص کو عبرت کا نشانہ بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کہانی میں ٹوئسٹ لانے کے چیمپئن اور ماسٹر مائنڈ ہیں، ان کی آڈیو لیک میں ہے کہ سائفر کے ساتھ کھیل کھیلتے ہیں، فارن آفس میں اوریجنل سائفر موجود ہوتا ہے، انہوں نے کھیل کھیلنے کے لئے اس سائفر کی کاپی منگوائی جس کے بارے میں اب موصوف کہہ رہے ہیں کہ وہ گم ہو گئی ہے۔

ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مریم نواز نے عمران خان کے ظلم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف پبلک آفس ہولڈر نہیں تھیں، ارشد ملک مرحوم کی آڈیو بھی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ دن آ گیا ہے کہ عمران خان ایک ہارے ہوئے ناکام اور جھوٹے شخص کی تصویر ہیں، مریم نواز ایک بہادر اور نڈر خاتون ہیں جس نے عمران خان کے سیاسی انتقام کا مقابلہ کیا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان نے قومی مفادات کو نقصان پہنچایا، ممنوعہ فنڈنگ کے تمام کیسز کی تحقیقات ہو رہی ہیں، ان میں قانون کے مطابق سزائیں دی جائی گی۔ لانگ مارچ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان سائفر جیسی خفیہ دستاویز چوری کر کے اپنے ساتھ لے گئے جو ان سے گم ہو گئی ہے، پہلے اس کا جواب دیں اس کے بعد لانگ مارچ کے اعلانات کریں۔