عمران خان سیاستدان بن کربات چیت کا راستہ اختیار کریں ،سیاستدان جب آپس میں بیٹھتےہیں تو ڈیڈ لاک ٹوٹتے اورفیصلے بدلتے ہیں ، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے عمران خان کو ایک مرتبہ پھر پارلیمنٹ میں واپس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سیاستدان بن کر بات چیت کا راستہ اختیار کریں ،سیاستدان جب آپس میں بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں تو ڈیڈ لاک ٹوٹتے اورفیصلے بدلتے ہیں ، راولپنڈی سے الیکشن کی تاریخ نہیں ملے گی ،عمران خان نے جس مقصد کے لئے 26 نومبر کا دن رکھا تھا وہ مقصد تو رہا نہیں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تھرڈ الرٹ ہے کہ 26 نومبر کو راولپنڈی میں سیاسی اجتماع میں دہشت گردی ہوسکتی ہے ، عمران خان اجتماع منسوخ نہیں کرتے تو سکیورٹی فول پروف یقینی بنائیں ۔وہ جمعہ کویہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ پاکستان کی مشکلات کا حل ، کامیابی اور ترقی کا راز اس میں ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو اور تمام ادارے اپنی آئینی حدود کو پیش نظر رکھتے ہوئے قومی خدمت کا فریضہ سرانجام دیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی طرف سے اپنے آئینی کردار میں رہنے اور ادا کرنے کا جو عزم ہے وہ ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں ہے جسے پوری قوم نے سراہا اور اسکی حمایت بھی کی ۔

انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی راہنما نے اس کو چیلنج کیا ، ایک ایسا انداز اپنا یا جس میں طعنہ زنی سے لیکر گالم گلوچ تک گئے ، بلیک میلنگ کی حد تک پہنچے ، جھوٹی آزادی کے نام پر جدوجہد شروع کی، مسلح جدوجہد کے لئے لوگوں سے حلف لئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس جانب سے مسلح افواج کی قیادت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا گیا ، اسی سال پاک فوج کے سربراہ کی تعیناتی ہونا تھی ،اس آئینی عمل کو بے وقعت کرنے کے لئے لانگ مارچ کا ڈھونگ رچایا گیا ، متعدد حیلے بہانے کیے گئے لیکن بالآخر پور ی قوم کی دعائوں اور پاکستان کے بہترین مفاد میں پاک فوج کے سربراہ کا آئینی طریقہ کار سے عمل مکمل ہوا ، اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے تمام کوششیں ناکام ہوئیں ۔

انہوں نے کہا کہ سید عاصم منیر کو آرمی چیف اور ساحر شمشاد مرز اچیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ملنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ،ہم امید کرتے اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ ملک کے بہترین مفاد میں اپنی بہترین صلاحیتوں سے ذمہ داریاں نبھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ عمران خان اپنا 26 نومبر کا اجتماع ملتوی کر دیتے ، وہ بضد ہیں ، عمران خان کل 26 نومبر کو راولپنڈی میں اجتماع کرنا چاہتے ہیں ، میرا انھیں آج بھی یہ مشورہ ہے کہ وہ بے مقصد اجتماع کو ملتوی کر دیں ۔

انہوں نے کہا کہ تمام انٹیلی جنس ایجنسیز نے ریڈ الرٹ کے طور پر حکومت کو اجتماع سے متعلق آگاہ کیا ہے کہ کوئی بھی دہشت گرد یا دہشت گردتنظیم فائدہ اٹھا سکتی ہے ،عمران خان کی جان کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں ،اس میں عمران خان کا اپنا بھی عمل دخل ہے ، ان کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ اس اجتماع کو ملتوی کردیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بہت پہلے اس اجتماع کا اعلان کیا ہوا تھا اس میں غلط مقاصد کے لئے تیاری کا وقت بھی مل جاتا ہے ، ہم نے حکومت کی طرف سے ایڈوائزری بھی جاری کی ہے ،چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو اس بات سے آگاہ بھی کیا ہے کہ جلسہ کے چاروں اطراف سخت حفاظتی انتظام ہونا چاہیے ، کوئی بھی شخص جامہ تلاشی کے بغیر داخل نہ ہونے دیا جائے ، سٹیج بلٹ پروف رکھا جائے ، اس ضمن میں کوئی نرمی نہ کی جائے ، سٹیج پر محدود داخلہ یقینی بنایا جائے اور سٹیج پر لوگوں پر نظر رکھی جائے ، یہ نکات انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر پنجاب حکومت کی انتظامیہ کو بتائے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان اجتماع ملتوی کر دیں تو شرمندگی سے بھی بچ جائیں گے ، عوام سے بھی اپیل ہے کہ یہ آزادی نہیں فتنہ اور فساد مارچ ہے ،یہ پاکستان کی ترقی نہیں تباہی کا مارچ ہے ، ملک میں عدم استحکام اور معیشت کو تباہ کرنے کا مارچ ہے ، اس مارچ کو نفرتوں کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ تمام محب وطن شہریوں سے اپیل ہے کہ اس شیطانی ،فتنے فساد کے عمل میں عمران خان کا ساتھ نہ دیں ، یہ عمل پاکستان کے خلاف ہے ، کسی شخص کے ذاتی مقاصد ملکی مفادات سے بڑھ کر نہیں ہیں ۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھنے دیا جائے ، یہ فیصلے آئین کی عمل داری سے متعلق اداروں اور سیاسی جماعتوں کے ہیں اس کے پیچھے سیا سی جماعتوں کی جدوجہد ہے ، ان کامیابیوں کو آگے لیکر جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جب سے لانگ مارچ کا آغاز کیا ہر روز لانگ مارچ کے آغاز پر دو اڑھائی ہزار لوگ انھیں ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتا ہے ویسے ہی کل بھی عمران خان کو راولپنڈی میں ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آئے گا ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 26 نومبر کا دن جس مقصد کے لئے رکھا تھا اب تو وہ مقصد رہا ہی نہیں ، اب کہتے ہیں الیکشن کی تاریخ لینے آیا ہوں، عمران خان صاحب اب راولپنڈی سے آپ کو الیکشن کی تاریخ نہیں ملے گی ، اب اسٹیبلشمنٹ الیکشن کی تاریخ نہیں لیکر دیں گے، اگر اسٹیبلشمنٹ نے تاریخ لیکر دینی ہوتی تو پچھلے 5 سے6ماہ میں انتہا تک لے گئے تا کہ انھیں الیکشن کی تاریخ لیکر دیں ،آپ نے سب کچھ اسی لئے کیا کہ اسٹیبلشنمٹ ا مجبور ہوجا ئے اور تاریخ لیکر دیدیں ۔

انہوں نے کہا کہ اسٹبلیشمنٹ نے بطور ادارہ اس فیصلے پر کھڑی ہے کہ وہ کسی قیمت پر بھی آئینی رول سے نہ پیچھے ہٹے گی نہ باہر جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب ،آپ سیاست دان بنیں اور پارلیمانی جمہوری نظام میں واپس آئیں، پی ڈی ایم قیادت کے ساتھ بیٹھیں ، مولانا فضل الرحمان، آصف علی زرادی ،خالد مگسی اور دیگر قیادت سے ساتھ مل بیٹھیں اور تاریخ مانگیں ، اگر نواز شریف سے بھی عمران خان ملنا چاہیں تو مجھے امید ہے کہ وہ بھی انکار نہیں کریں گے ، اگر کئی دقت پیش آئے تو سیاسی مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ اس خدمت کے لئے بھی تیار ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نے حزب اختلاف کے بغیر گاڑی چلانی چاہی، حزب اختلاف کو جیلوں میں بند کر دیا لیکن اپنی مدت پوری نہیں کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کرپشن ختم کرنے کے نام پر ایسی کرپشن کی جس نے ہر طرح کی کرپشن کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی یہ سوچ ہے کہ میں مخالف سیاسی لوگوں یا جماعت کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے مرجانا چاہتا ہوں ، اس ملک میں ایسی سوچ اور سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان جب آپس میں بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں تو ڈیڈ لاک ٹوٹتے اورفیصلے بدلتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کرانے سے متعلق اتحادی حکومت کے فیصلوں کو تبدیل ہوتے دیکھا ہے، اپنے لیڈر کو بھی ایک فیصلے پر ہوتے ہوئے جب دوسروں کے ساتھ بیٹھے ، بات چیت ہوئی تو ان فیصلوں میں بھی تبدیلی دیکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پارلیمنٹ میں واپس آکر سیاسی جماعتوں کا حصہ بنیں تا کہ پاکستان کامیاب ہو اور آگے بڑھے تا کہ پاکستان میں مہنگائی کم اور عام آدمی کی زندگی آسان اور عمل آگے بڑھے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان ایسا نہیں کرتے تو مہنگی ،سیاسی عدم استحکام سمیت تمام مسائل کے ذمہ دار وہ خود ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ادارے نے باقاعدہ پوری قوم کے سامنے بٹیھ کر یہ وعدہ کیا اور اعلان کیا کہ ہم سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے ،ان وعدے کو نبھانا اور جزویات میں اترنا ان کا کام ہے، ادارے کے نئے سربراہ کا بھی اس میں بنیاد ی کردار تھا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر وہ قوت اور ایجنسی جو یہ چاہتی ہے کہ پاکستان میں انارکی ہو وہ اس قسم کی سیاسی سرگرمی یا اجتماع سے اپنے مزموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے راولپنڈی پہنچنے کے لئے جو راستے مانگے ہیں اس بارے انتظامیہ کو کہا ہے کہ انھیں رسائی دیں تا ہم سکیورٹی بھی فول پروف یقینی بنائیں ، اسلا م آباد بھی کھلا رہے گا ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے سکیورٹی مانگی تھی تو ہم نے معذرت کر دی تھی ہمارے پاس اس وقت گنجائش نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ اور فلائی کرنے کے حوالے سے علاقے کی حساسیت کا معاملہ چل رہا ہے ،میری نظر میں ہیلی کاپٹر کے لئے محفوظ راستے کو یقینی بنانا چاہیئے ۔