غزہ میں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورز یاں ، جنوبی اور لاطینی امریکا کے تین ممالک کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان

سفارتی تعلقات منقطع

میکسیکو سٹی۔1نومبر (اے پی پی):جنوبی اور لاطینی امریکا کے تین ممالک بولیویا، کولمبیا اور چلی نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے جنگی جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں۔لاطینی امریکا کے ملک بولیویا نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے جنگی جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بولیویا کے صدر لوئس آرس کی انتظامیہ کی عہدیدار ماریا نیلا پراڈا نے ایک بیان میں کہا کہ ہم غزہ کی پٹی پر حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جن میں اب تک ہزاروں شہریوں کی جانیں جا چکیں اور لاکھو ں فلسطینیوں کو زبر دستی بے گھر کردیا گیا ہے۔انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ ان کا ملک غزہ کے مکینوں کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد روانہ کر رہا ہے۔

قبل ازیں بولیویا کے نائب وزیر خارجہ فریڈی مامانی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان کی حکومت نے غزہ کی پٹی میں جارحانہ اور غیر متناسب اسرائیلی فوجی حملے کی مذمت اور اس سے قطع تعلق کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی اسرائیلی فوج کی غزہ میں کارروائی کے بعد بولیویا نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے جو دس سال بعد 2019 میں بحال ہوئے۔حماس نے بولیویا کی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس اقدام کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔

حماس نے ان عرب ممالک پر بھی ایسا کرنے کے لیے زور دیا جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق چلی، جہاں عرب دنیا سے باہر سب سے زیادہ فلسطینی آباد ہیں نے بھی کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قانون کی ناقابل قبول خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجاً اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا رہا ہے۔یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی امریکا کے ایک اور ملک کولمبیا نے اسرائیل کے سفیر کو ملک چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔جنوبی امریکا کے سب سے بڑے ملک برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے بھی اسرائیل پر جنگ بندی پر زور دیا ہے۔واضح رہے کہ برازیل کے پاس اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ہے۔برازیلی صدر نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف فلسطینی عسکریت پسندوں کا حملہ غزہ میں لاکھوں بے گناہوں کے قتل کا جواز نہیں ہو سکتا۔