غزہ میں جنگ ختم کر کے مستقل امن قائم کیا جائے ،کشمیر اور فلسطین کے مسئلے کے حل سے ہی دنیا میں امن قائم ہو گا، طاہر اشرفی

غزہ میں جنگ ختم کر کے مستقل امن قائم کیا جائے ،کشمیر اور فلسطین کے مسئلے کے حل سے ہی دنیا میں امن قائم ہو گا، طاہر اشرفی

لاہور۔26نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی و چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ ختم کر کے مستقل امن قائم کیا جائے، ہمیں مل کر فلسطین کیلئے آواز اٹھانی چاہیے، مسئلہ فلسطین پوری انسانیت کا مسئلہ ہے،پاکستان کا امن ، سلامتی اور استحکام ہم سب کو عزیز ہے ،فلسطین میں مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ مسیحیوں کے بھی مقدسات ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں لاہور پریس کلب میں مسیحی رہنما و سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر پال بھٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ جڑانوالہ واقعہ بطور پاکستانی اور بطور مسلمان ہمارے لئے ایک آزمائش ہے،ہم اس واقعہ پر اب بھی شرمندہ اور معذرت خواہ ہیں کیونکہ جو زیادتی کرتا ہے معافی بھی وہی مانگتا ہے ،ہم نے جڑانوالہ جانا تھا لیکن مسئلہ فلسطین کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہم نے یہ سوچا کہ یہ مسئلہ صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے لہذا سب سے پہلے اس مسئلے پر آ واز بلند کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسیحی رہنما ڈاکٹر پال بھٹی کی آرگنائزیشن (مینارٹی الائنس) کی اندرون اور بیرون ملک آواز بہت موثر ہے۔غزہ کے حوالے سے مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ ختم کر کے خطے میں مستقل امن قائم کیا جائے اور ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جا ئے جس کا دارالخلافہ القدس الشریف ہو۔ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم اقلیتوں کے بے حد مشکور ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے ہر مسئلے پر ان کا ساتھ دیا ہے اور مسئلہ فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی بھر پور مذمت کی ہے حالانکہ ان کے مقد سات بھی فلسطین میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل انٹر فیتھ ہارمونی کونسل کے پلیٹ فارم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ بند ی کے معاہدے میں توسیع کی جا ئے اور خطے میں دیر پا امن کے قیام کیلئے مذاکراتی عمل شروع کیا جائے ۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ جڑانوالہ واقعہ کے بعد ہم نے مسیحی برادری کے ساتھ مل کر سرگودھا اور سیالکوٹ میں بھی غیر ملکی سازشوں کو ناکام بنایا جس میں پوری قوم ، پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کا امن، سلامتی اور استحکام سب سے زیادہ عزیز ہے ۔اس موقع پرمسیحی رہنما و سابق وفاقی وزیرڈاکٹر پال بھٹی نے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر جو افواہیں پھیلائی جاتی ہیں اس سے ملک کو نقصان پہنچتاہے،جو لوگ اسلام کے نام پر دہشگردی پھیلاتے ہیں ان کے خلاف جہاد پیدا کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ جڑانوالہ واقعہ میں ہم نگران حکومت ،سپہ سالار اور تمام ذمہ دار لوگوں کے مشکور ہیں کہ جنہوں نے بروقت کارروائی کر کے مزید نقصان سے بچا لیا اور وہاںکی مقامی آ بادی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس واقعہ کے بعد مسیحی برادری کیلئے اپنی مساجد کے دروازے کھول دیئے اورمتاثرین کو پناہ دی۔انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد یہی ہے کہ جس سطح پر بھی چاہے وہ سماجی ، سیاسی اور معاشرتی زیادتی ہو اس کے خلاف آواز بلند کی جائے اور مظلوم کا ساتھ دیا جائے،یہی مقصد سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی مرحوم کا تھا جس کو ہم آگے لے کر چل رہے ہیں اور تما م علما کے ساتھ مل کر اس پر بہت کام کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر جب بھی کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو اس کا سد باب کیا جا سکے تاکہ کوئی شر پسند قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے سکے کیونکہ اس شرانگیزی سے نہ صرف اقلیتیوںکو بلکہ پورے ملک میں انتشار پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے جو کہ کسی لحاظ سے بھی ملکی سلامتی کے حوالے سے درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے علما اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، جڑانوالہ واقعہ بہت افسوسناک اور تکلیف دہ ہے ،کشمیر اور فلسطین کے مسئلے کے حل سے ہی دنیا میں امن قائم ہو گا،عالمی امن کے راستے میں یہی دونوں مسئلے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان دیرینہ حل طلب مسائل کیلئے اپنی کاوشوں کو بروئے کار لائیں۔