قائداعظم یونیورسٹی کے زیر اہتمام “جنوبی ایشیا پر فیٹف کے اثرات 2023″کے عنوان سے سیمینار ،مقررین کا بھارت اور جرائم کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ کی کڑی جانچ پڑتال پر زور

قائداعظم یونیورسٹی

اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):کابینہ کے ارکان، ماہرین تعلیم اور دانشوروں سمیت مقررین نے جرائم اور بھارتی سیاست کے درمیان ایک “مضبوط” گٹھ جوڑ کو اجاگرکرتے ہوئےجنوبی ایشیائی خطے کے استحکام پر منفی اثرات کی روک تھام کے لئے ریاستی دہشت گردی، منشیات کی تجارت اور غیر قانونی ہتھیاروں میں بھارت کے ملوث ہونے کی سخت جانچ پڑتال پر زور دیا ہے۔وہ نومبر میں طے شدہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(فیٹف ) کی جانب سے بھارت کے بارے میں آن سائٹ جائزے سے قبل بدھ کو قائداعظم یونیورسٹی کے زیر اہتمام “جنوبی ایشیا پر فیٹف کے اثرات 2023″کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

سیمینار کا اہتمام قائداعظم یونیورسٹی کے سکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز نے کیا جو “یونیورسٹیز آؤٹ ریچ – فیز ون ” کا ایک حصہ ہے ۔ سیمینار میں مقررین نے منشیات مافیا کے ساتھ بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق کثیر جہتی چیلنجوں اور مضمرات پر روشنی ڈالی۔ کلبھوشن یادیو کے ذریعے ہندوستانی سرپرستی میں ریاستی دہشت گردی اور کینیڈا میں کینیڈین سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کی مثالیں پیش کرتے ہوئے مقررین نے فیٹف کی توجہ مبذول کرائی اور متفقہ طور پر اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ ہندوستان کے جرائم کے ساتھ روابط کا پرزور انداز میں مقابلہ کیا جانا چاہئے جو بصورت دیگر علاقائی امن کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں، مجرمانہ سرگرمیوں اور سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی میں ملوث ہے،ممبئی ،بھارت کے مغربی ساحل پر ایک گنجان آباد شہر اور ایک مالیاتی مرکز سمجھا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر وقار مسعود نے کہا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی طرف سے لگائی گئی تمام 27 شرائط کو پورا کر لیا ہے جبکہ اس کے برعکس بھارت نے بین الاقوامی مالیاتی نگران ادارے کی جانب سے پوچھے گئے 330 سوالات کا ابھی تک جواب نہیں دیا، اگر ہندوستان ایف اے ٹی ایف کے جائزے کے بعد بہتر نگرانی میں یا گرے لسٹ میں ڈالا جاتا ہے یہ ہندوستان کے لئے بڑ ا دھچکا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فیٹف انڈیا کا جائزہ 2019 میں ہونا تھا لیکن کوویڈ۔19 پابندیوں کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان سے صرف 27 سوالات کا موازنہ کرتے ہوئے ٹاسک فورس نے بھارت کے سامنے اس کی مالیاتی ریگولیٹری نظام کے بارے میں 330 سوالات اٹھائے ہیں جبکہ پاکستان نے اے ایم ایل اور ٹی ایف سی پر ایف اے ٹی ایف کے معیارات کے مطابق اینٹی منی اور انسداد دہشت گردی ری فنانسنگ کو مضبوط بنانے کے لئے تمام مطلوبہ اقدامات اٹھائے تھے۔انہوں نے کہا کہ جرائم اور بھارتی سیاست کے درمیان مضبوط گٹھ جوڑ ہے اور بھارتی پارلیمنٹیرین اروند کیجریوال کے مطابق بھارتی صنعت کار گوتم اڈانی تقریباً 180 بلین ڈالر کی دولت کے ساتھ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے فرنٹ مین تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر باقر ملک نے کہاکہ فیٹف کا ہندوستان کی مالیاتی سرگرمیوں کا جائزہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، منشیات کی تجارت اور غیر قانونی ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے بھارت کے روابط نے گہرا اثر چھوڑا ہے، ہمیں ان خدشات کو دور اور زیادہ شفاف مالیاتی ماحولیاتی نظام کے لئے باہمی تعاون سے کام کرنا چاہئے۔ نیشنل کنسلٹنٹ برائے سائبر کرائمز اینڈ فرانزکس برائے یو این او ڈی سی، ڈاکٹر فتح دین بی محمود نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ میں انڈر ورلڈ کی شمولیت سائبر کرائمز اور غیر قانونی مالی لین دین کا ایک پیچیدہ جال ہے،اس کا مقابلہ کرنے کے لئے بین الاقوامی تعاون اور مضبوط سائبر کرائم فرانزکس بہت ضروری ہیں۔

کیو اے یو کے سکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے سربراہ ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ ہندوستان کی مالیاتی سرگرمیاں سخت جانچ کی زد میں ہیں اور یہ وقت ہے کہ مسائل کا مقابلہ کیا جائے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کالے دھن کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات جامع جوابات کا تقاضا کرتے ہیں اور وہ پورے جنوبی ایشیائی خطے کے استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے امور نوجوانان کامران سعید عثمانی نے کہاکہ ہم منشیات کی تجارت میں بھارت کے ملوث ہونے اور غیر قانونی ہتھیاروں کی گردش کے سماجی اور سیاسی نتائج کو نظر انداز نہیں کر سکتے، یہ مسائل نوجوانوں اور وسیع تر سیاسی منظر نامے کو متاثر کرتے ہیں۔ ’’پاکستان المیادین ‘‘بیروت میں بیورو چیف بیکر یونس نے کہا کہ عالمی میڈیا کا ہندوستان کے اقدامات اور ایف اے ٹی ایف کی پوچھ گچھ کے مضمرات پر روشنی ڈالنے میں اہم کردار ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان مسائل کونظر انداز نہ کیا جائے۔