قومی سطح پر توانائی کی بچت کے لئے ایکشن پلان 2023-2030 کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا

ایسوسی ایٹیڈ پریس آف پاکستان

اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی): پاکستان میں قومی سطح پر توانائی کی بچت کے لئے ایکشن پلان 2023-2030 کا باقاعدہ آغاز کردیا کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جمعہ کو یہاں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارہ نیشنل انرجی ایفیشینسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا) کے زیر اہتمام توانائی کی بچت پر قومی سٹیک ہولڈرز کی مشاورتی کانفرنس منعقد ہوئی۔

اس موقع پر منعقدہ تقریب سے وزیر دفاع اور توانائی کے بارے میں اعلی سطح کی کمیٹی کے کنوینئر خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ، سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی محمد عبداللہ خان سنبل، منیجنگ ڈائریکٹر نیکا ڈاکٹر سردار معظم اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نےانرجی ایفیشینسی اور بچت پر نیشنل اسٹیک ہولڈرز کنسلٹیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم ملک میں توانائی کی بچت کے حوالے سے قومی سطح پر روڈمیپ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اس کا براہ راست اثر ملکی زرمبادلہ پر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جتنی توانائی کی بچت کی جائے گی اتنا ہی درآمدی توانائی اور خام تیل پر انحصار کم ہوگا۔ مشاورتی کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمدآصف نے کہاکہ آج سے تین سال قبل انرجی کنزرویشن کا سلسلہ شروع ہوا ، 4 سال وزیر پانی اور بجلی رہا، جب تک انرجی کی بجت نہیں ہو گی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ کنزرویشن کے لئے ڈیمز بنائے گئے کچھ نہیں بنے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پانی کی بچت کے لئے کوئی ایکشن پلان نہیں ہے۔ ہم آج بھی فلڈ اری گیشن میں مصروف ہیں۔ ہم بہت زیادہ پانی ضائع کر رہے ہیں۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاور سیکشن میں کرپشن اور ویسٹیشن ہو رہا ہے جسے روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے پنکھوں اور بلوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی تو مزاحمت کاسامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہ تعلیمی اداروں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

پانی اور توانائی کا ضیاع روکنے کے لئے اقدامات اور آگاہی ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئے قوانین کی بجائے پہلے سے موجود قوانین پر عملدرآمد کرایا جانا چاہیے۔ اگر الیکٹرک موٹر سائیکل آئیں گے تو توانائی کی بچت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسائل سے نمٹنے کے لئے رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ وزیردفاع نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو توانائی کی بچت کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عوامی سطح پر پانی اور توانائی کی بچت کے لئے آگاہی پیداہو سکے۔وفاقی وزیر آغا حسن نے کہا کہ دور حاضر میں کسی بھی ملک کی پائیدار معاشی و صنعتی ترقی کا دارومدار بڑی حد تک توانائی کی بلا تعطل، مستقل معیار اور متبادل ذرائع کی فراہمی پر منحصر ہے۔

انہوں نے شرکاء جن میں صنعتی شعبے کے نمائندے اور اعلی افسران شامل تھے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے انرجی ایفیشینسی اور کنزرویشن پالیسی 2023 منظور کی ہے مگر اس کو عملی طور پر نافذ کرنے کے منصوبے پر آپ کی رائے ہمارے لئے انتہائی مفید ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں بہت ہی مختصر عرصے میں پاکستان میں انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈذ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ہمارے ملک میں گرمیوں میں بجلی کی کھپت بہت بڑھ جاتی ہے یہ کوڈز اس سلسلے میں خاصے اہمیت کے حامل ہیں تاکہ گھروں اور عمارتوں کی تعمیر ایسے اصولوں کے تحت ہو جس سے نہ صرف بجلی کی کھپت کم ہو بلکہ روشنی اور ہوا کا مناسب بندوبست بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے میں توانائی کے عالمی معیارات متعارف کرانا انتہائی ضروری ہے لہذا اس سلسلے میں ہماری حکومت نے غیر معیاری بلب بنانے پر نہ صرف پابندی لگائی بلکہ اسکے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مختصر عرصہ میں گھروں میں استعمال ہونے والے برقی آلات کی ریگولیشنز منظور کی ہیں، یہ ریگولیشنز نہ صرف مقامی صنعتوں کے لئے کارگر ہونگی بلکہ بجلی کے صارفین کو بھی ان سے استفادہ ہوگا۔ مشاورتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈی نیکا ڈاکٹر سردار معظم نے انرجی ایفیشینسی اور کنزرویشن پالیسی کے نمایاں فیچرز کا تعارف کرایا۔ وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی عبداللہ خان سنبل نے اپنے خطاب میں شرکا کو خوش آمدید کہا اور نیکا پالیسی 2023 کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔